صحیح مسلم حدیث ۹۷۴ - امام کے قریب اہل فہم کھڑے ہوں

امام کے قریب سمجھ دار لوگوں کے کھڑے ہونے کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۹۷۴

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، وَصَالِحُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ وَرْدَانَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنِي خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِيَلِنِي مِنْكُمْ أُولُو الأَحْلَامِ وَالنُّهَى ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثَلَاثًا ، وَإِيَّاكُمْ وَهَيْشَاتِ الأَسْوَاقِ " .

عبداللہ بن مسعود روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے نزدیک وہ لوگ کھڑے ہوں جو عقل و شعور کے مالک ہوں، ان کے بعد متوسط لوگ پھر ان کے بعد اور لوگ۔ نیز بازاری حرکات سے تم لوگ پرہیز کرو۔“

صحیح مسلم حدیث ۹۷۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے قریب وہ لوگ کھڑے ہوں جو عقل و شعور رکھتے ہوں، پھر ان کے بعد والے، پھر ان کے بعد والے۔ اس کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بازاری حرکات سے بچنے کی نصیحت فرمائی۔ اس روایت کا تعلق جماعت کی نماز کے نظم سے ہے۔ امام کے قریب ایسے لوگوں کا ہونا جنہیں نماز کا طریقہ سمجھ ہو، صفوں اور جماعت کے لیے مددگار ہوتا ہے۔ حدیث میں شور، بے ترتیبی اور بازاری انداز سے بچنے کا بھی اشارہ ہے۔ نماز میں آدمی بازار جیسے انداز، آواز یا بے قابو حرکت سے بچے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسجد اور نماز کا ماحول سنجیدگی، سکون اور ادب کا ماحول ہونا چاہیے۔ یہ روایت صف بندی اور جماعت کے آداب کو بہت آسان الفاظ میں سمجھاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • امام کے قریب سمجھ دار اور باشعور لوگ کھڑے ہوں۔
  • نماز میں بازاری شور اور بے ترتیبی سے بچنا چاہیے۔
  • جماعت کی نماز میں نظم کا خیال رکھا جائے۔
  • مسجد اور نماز میں سکون اور ادب ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں