صحیح مسلم حدیث ۹۷۵ - صف بندی نماز کی تکمیل ہے
صفیں برابر رکھنا نماز کی تکمیل کا حصہ ہے
صحیح مسلم : ۹۷۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۹۷۵
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَوُّوا صُفُوفَكُمْ ، فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصَّفِّ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ " .
انس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ اپنی صفیں برابر رکھا کرو کیوں کہ صف بندی سے نماز کی تکمیل ہوتی ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۹۷۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنی صفیں برابر رکھا کرو، کیونکہ صف بندی نماز کی تکمیل میں سے ہے۔ یہ بہت مختصر مگر بہت کام کی حدیث ہے۔ جماعت کی نماز میں صفیں سیدھی رکھنا صرف ظاہری خوب صورتی کے لیے نہیں، بلکہ نماز کے نظم اور تکمیل سے تعلق رکھتا ہے۔ جب نمازی آگے پیچھے، ٹیڑھے یا فاصلے چھوڑ کر کھڑے ہوں تو جماعت کی ترتیب متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے صف درست کرنا ہر نمازی کی ذمہ داری ہے۔ امام کی ہدایت کا انتظار ہی نہیں، خود بھی دھیان رکھنا چاہیے کہ کندھا صف سے باہر نہ ہو، آگے پیچھے فرق نہ ہو اور صف مناسب طور پر برابر ہو۔ یہ حدیث نماز کی صف بندی کو آسان اور عملی انداز میں سمجھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جماعت کی نماز میں صفیں برابر رکھنی چاہئیں۔
- صف بندی نماز کی تکمیل میں شامل ہے۔
- ہر نمازی کو اپنی جگہ درست کرنی چاہیے۔
- نماز میں ترتیب اور مل کر کھڑا ہونا پسندیدہ عمل ہے۔
