صحیح مسلم حدیث ۹۷۸ - صفیں سیدھی رکھو ورنہ اختلاف ہو گا
صفیں سیدھی نہ رکھنے پر اختلاف کی تنبیہ
صحیح مسلم : ۹۷۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۹۷۸
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيَّ ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُمْ ، أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ " .
نعمان روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے۔ ”تم اپنی صفیں سیدھی رکھو وگرنہ اللہ تعالیٰ تم میں مخالفت پیدا کر دے گا۔“
صحیح مسلم حدیث ۹۷۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: تم اپنی صفیں ضرور سیدھی رکھو، ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان مخالفت پیدا کر دے گا۔ یہ روایت صف بندی کی سخت تاکید کرتی ہے۔ نماز میں صف سیدھی رکھنا معمولی بات نہیں سمجھی جانی چاہیے۔ حدیث کے الفاظ بتاتے ہیں کہ صفوں کی بے ترتیبی کا تعلق لوگوں کے باہمی اختلاف سے بھی جوڑا گیا ہے۔ اس لیے جماعت کی نماز میں ہر شخص اپنی جگہ درست کرے، آگے پیچھے کھڑا نہ ہو، اور صف کو برابر کرنے میں تعاون کرے۔ یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ نماز میں جسمانی ترتیب بھی دین کا حصہ ہے، اور مسلمان کو جماعت میں نظم کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز کی صفیں سیدھی رکھنا ضروری ادب ہے۔
- صفوں کی بے ترتیبی سے بچنے کی سخت تاکید آئی ہے۔
- جماعت میں ہر نمازی اپنی جگہ درست کرے۔
- مل کر صف درست کرنا باہمی نظم کا سبب بنتا ہے۔
