صحیح مسلم حدیث ۹۸۱ - اذان، صف اول اور اول وقت نماز کی فضیلت
اذان اور صف اول کی فضیلت: نماز میں سبقت کا شوق
صحیح مسلم : ۹۸۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۹۸۱
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ ، مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الأَوَّلِ ، ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ ، لَاسْتَهَمُوا ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ ، لَاسْتَبَقُوا إِلَيْهِ ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الْعَتَمَةِ ، وَالصُّبْحِ ، لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اذان اور پہلی صف کا ثواب اگر لوگوں کو معلوم ہوتا تو وہ قرعہ اندازی کرتے اور اگر اول وقت نماز پڑھنے کی فضیلت سے لوگ واقف ہوتے تو ایک دوسرے پر سبقت کرتے۔ اور اگر عشاء و فجر کی برتری جانتے تو ان دونوں کے لئے سرین کے بل رگڑتے ہوئے آتے۔“
صحیح مسلم حدیث ۹۸۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے چند بڑے اعمال کی طرف بہت مضبوط انداز میں توجہ دلائی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر لوگوں کو اذان اور پہلی صف کا ثواب معلوم ہو جائے تو وہ اس کے لیے قرعہ اندازی تک کریں۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ مسجد میں صف اول کی فضیلت بہت بڑی ہے۔ اسی طرح اول وقت نماز پڑھنے کی فضیلت بھی بیان ہوئی کہ لوگ اسے جان لیتے تو ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے۔ عشاء اور فجر کی نماز کا ذکر بھی خاص طور پر آیا کہ ان کی اہمیت اتنی ہے کہ انسان مشکل کے باوجود حاضر ہونے کی کوشش کرے۔ یہ حدیث جماعت کی نماز، اذان کی فضیلت، فجر کی نماز اور عشاء کی نماز کے بارے میں رغبت پیدا کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اذان اور پہلی صف میں شامل ہونا بڑی فضیلت والا عمل ہے۔
- نماز کو اول وقت ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
- عشاء اور فجر کی جماعت میں حاضر ہونے کی خاص ترغیب دی گئی ہے۔
- نیکی کے کاموں میں آگے بڑھنے کا جذبہ پسندیدہ ہے۔
