صحیح مسلم حدیث ۹۸۵ - مردوں اور عورتوں کی صفوں کا حکم
مردوں اور خواتین کی صفوں کی ترتیب: حدیث کی صاف تعلیم
صحیح مسلم : ۹۸۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۹۸۵
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُهَا ، وَشَرُّهَا آخِرُهَا ، وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ آخِرُهَا ، وَشَرُّهَا أَوَّلُهَا " ،
ابوہریرہ روایت:
رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مردوں کی صفوں میں سب سے بہتر پہلی صف ہے اور سب سے بری آخری صف ہے۔ اور خواتین کے لیے سب سے بری پہلی صف ہے (جب کہ مردوں کی صفیں ان کے قریب ہوں) اور اچھی صف پچھلی صف ہے۔ (جو کہ مردوں سے دور ہو)۔
صحیح مسلم حدیث ۹۸۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں اور خواتین کی صفوں کے بارے میں مختصر مگر واضح بات فرمائی۔ مردوں کی صفوں میں سب سے بہتر پہلی صف ہے اور سب سے کم بہتر آخری صف ہے۔ خواتین کے بارے میں فرمایا کہ ان کی بہتر صف پچھلی صف ہے اور کم بہتر پہلی صف ہے۔ دیے گئے ترجمے میں یہ بات بھی واضح کی گئی ہے کہ یہ حکم اس صورت سے متعلق ہے جب مردوں کی صفیں خواتین کے قریب ہوں۔ اس حدیث سے نماز میں صفوں کی ترتیب، حیا، فاصلے اور جماعت کے ادب کا پتا چلتا ہے۔ اس کا مقصد نماز کے ماحول کو سنجیدہ اور باوقار رکھنا ہے۔ یہ حدیث مردوں کی صف اول کی فضیلت اور خواتین کی صفوں کے ادب کو آسان انداز میں سمجھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مردوں کے لیے پہلی صف زیادہ فضیلت والی ہے۔
- خواتین کے لیے پچھلی صف کو بہتر بتایا گیا ہے۔
- نماز میں صفوں کی ترتیب کا خیال رکھنا چاہیے۔
- جماعت کے ماحول میں حیا اور نظم اہم ہیں۔
