صحیح مسلم حدیث ۹۸۷ - سجدہ سے سر اٹھانے میں خواتین کے لیے حکم
سجدہ سے سر اٹھانے کا ادب: خواتین کے لیے خاص ہدایت
صحیح مسلم : ۹۸۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۹۸۷
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : " لَقَدْ رَأَيْتُ الرِّجَالَ ، عَاقِدِي أُزُرِهِمْ فِي أَعْنَاقِهِمْ ، مِثْلَ الصِّبْيَانِ مِنْ ضِيقِ الأُزُرِ ، خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ قَائِلٌ : يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ ، لَا تَرْفَعْنَ رُءُوسَكُنَّ حَتَّى يَرْفَعَ الرِّجَالُ " .
سہل روایت:
میں نے دیکھا ہے کہ کپڑا کم ہونے کی وجہ سے لوگ اپنے تہبند اپنے گلے میں باندھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تھے، جس پر کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم بیان کیا: ”اے خواتین! جب تک مرد سجدہ سے سر نہ اٹھائیں اس وقت تک تم بھی سجدہ سے سر نہ اٹھانا۔“
صحیح مسلم حدیث ۹۸۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا سہل رضی اللہ عنہ ایک خاص صورت حال بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے دیکھا کہ کچھ مرد کپڑا کم ہونے کی وجہ سے اپنے تہبند گلے میں باندھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تھے۔ اسی وجہ سے کسی نے خواتین کو یہ حکم سنایا کہ جب تک مرد سجدہ سے سر نہ اٹھا لیں، تم بھی سر نہ اٹھانا۔ اس حدیث کا تعلق نماز کے ادب، حیا اور جماعت کے ماحول سے ہے۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ اس وقت کپڑوں کی تنگی کی وجہ سے ایک احتیاطی ہدایت دی گئی۔ اس لیے اس روایت سے ہمیں یہ سمجھ آتا ہے کہ نماز میں حیا، نظم اور دوسروں کے حالات کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ حدیث کے الفاظ کے مطابق بات اسی خاص حالت تک محدود رکھی جانی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز میں حیا اور احتیاط کا خیال رکھنا چاہیے۔
- جماعت کے اندر مردوں اور خواتین کے حالات کا لحاظ کیا گیا۔
- سجدہ اور اٹھنے کے عمل میں نظم ضروری ہے۔
- خاص صورت حال میں مناسب احتیاطی ہدایت دی جا سکتی ہے۔
