صحیح مسلم حدیث ۹۹۶ - عشاء کے لیے مسجد آنے والی خاتون خوشبو نہ لگائے
عشاء کی نماز اور خواتین کے لیے خوشبو سے پرہیز
صحیح مسلم : ۹۹۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۹۹۶
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ زَيْنَبَ الثَّقَفِيَّةَ ، كَانَتْ تُحَدِّثُ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا شَهِدَتْ إِحْدَاكُنَّ الْعِشَاءَ ، فَلَا تَطَيَّبْ تِلْكَ اللَّيْلَةَ " .
زینب روایت:
رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”کوئی خاتون جب عشاء کی نماز کیلئے مسجد آنا چاہے تو وہ اس رات خوشبو نہ لگائے۔“
صحیح مسلم حدیث ۹۹۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدہ زینب رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بیان کرتی ہیں کہ جب تم میں سے کوئی خاتون عشاء کی نماز کے لیے مسجد میں حاضر ہو تو وہ اس رات خوشبو نہ لگائے۔ یہ حدیث خواتین کے مسجد جانے کے آداب میں سے ایک خاص ادب بتاتی ہے۔ اس سے پہلے کی روایات میں خواتین کو مسجد جانے سے نہ روکنے کا حکم آیا، اور یہاں مسجد آتے وقت خوشبو سے بچنے کی ہدایت آئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اجازت کے ساتھ آداب بھی ہیں۔ حدیث میں خاص طور پر عشاء کی نماز کا ذکر ہے، اس لیے بات کو اسی طرح بیان کرنا چاہیے۔ عام فہم سبق یہ ہے کہ مسجد میں عبادت کے لیے آتے وقت سادگی، سنجیدگی اور دوسروں کے لیے فتنے سے بچنے کا خیال رکھا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عشاء کے لیے مسجد آنے والی خاتون اس رات خوشبو نہ لگائے۔
- مسجد جانے کی اجازت کے ساتھ آداب کا خیال بھی ضروری ہے۔
- عبادت کے ماحول میں سادگی بہتر ہے۔
- حدیث کے خاص الفاظ کو اسی دائرے میں سمجھنا چاہیے۔
