صحیح مسلم حدیث ۹۹۸ - خوشبو کی دھونی لے کر عشاء میں نہ آئے
خوشبو کی دھونی اور عشاء کی نماز: خواتین کے لیے ہدایت
صحیح مسلم : ۹۹۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۹۹۸
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَصَابَتْ بَخُورًا ، فَلَا تَشْهَدْ مَعَنَا الْعِشَاءَ الآخِرَةَ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو عورت کسی خوشبو کی دھونی لے تو وہ ہمارے ساتھ نماز عشاء میں شریک نہ ہو۔“
صحیح مسلم حدیث ۹۹۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو عورت کسی خوشبو کی دھونی لے، وہ ہمارے ساتھ عشاء کی نماز میں شریک نہ ہو۔ یہ حدیث بھی خواتین کے مسجد آنے کے آداب میں خوشبو سے بچنے کی تعلیم دیتی ہے۔ یہاں خاص طور پر خوشبو کی دھونی اور عشاء کی نماز کا ذکر ہے۔ اس لیے بات کو اسی حد میں سمجھنا چاہیے کہ جب عورت عشاء کی جماعت میں مسجد آئے تو خوشبو لگا کر یا خوشبو کی دھونی لے کر نہ آئے۔ اس کا مقصد عبادت کے ماحول کو سادہ اور سنجیدہ رکھنا ہے۔ یہ روایت پچھلی روایات کے ساتھ مل کر بتاتی ہے کہ خواتین کو مسجد سے روکا نہیں جاتا، مگر مسجد آنے کے آداب کا خیال ضرور رکھا جاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خوشبو کی دھونی لے کر عشاء کی جماعت میں شریک نہ ہونے کی ہدایت ہے۔
- مسجد آنے والی خواتین کے لیے خوشبو سے پرہیز کا حکم آیا ہے۔
- عبادت کے ماحول میں سادگی اور سنجیدگی مطلوب ہے۔
- حدیث میں عشاء کی نماز کا ذکر خاص طور پر آیا ہے۔
