صحیح مسلم حدیث ۹۹۹ - بناؤ سنگھار اور خواتین کا مسجد آنا
خواتین کا بناؤ سنگھار اور مسجد آنے کے آداب
صحیح مسلم : ۹۹۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۹۹۹
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَقُولُ : " لَوْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى مَا أَحْدَثَ النِّسَاءُ ، لَمَنَعَهُنَّ الْمَسْجِدَ ، كَمَا مُنِعَتْ نِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، قَالَ : فَقُلْتُ لِعَمْرَةَ : أَنِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُنِعْنَ الْمَسْجِدَ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ،
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر زمانہ موجودہ کی بناؤ سنگھار کرنے والی خواتین کو دیکھتے تو انہیں بھی یہودیوں کی طرح مسجد میں داخل ہونے کی ممانعت کر دیتے۔ یحییٰ بن سعید نے پوچھا: اے عمرہ! کیا بنی اسرائیل کی عورتوں کو مسجد میں آنے سے روک دیا گیا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔
صحیح مسلم حدیث ۹۹۹ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان بناؤ سنگھار والی خواتین کو دیکھتے جو بعد میں پیدا ہوئیں، تو انہیں بھی بنی اسرائیل کی عورتوں کی طرح مسجد میں داخل ہونے سے منع کر دیتے۔ عمرہ سے پوچھا گیا کہ کیا بنی اسرائیل کی عورتوں کو مسجد سے روک دیا گیا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ یہ روایت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول ہے، جس میں مسجد آنے والی خواتین کے بناؤ سنگھار پر سخت ناپسندیدگی ظاہر ہوتی ہے۔ اسے پہلے والی احادیث کے ساتھ سمجھنا چاہیے جن میں خواتین کو مسجد جانے سے نہ روکنے کا حکم ہے، اور خوشبو سے بچنے کی ہدایت بھی ہے۔ اس روایت کا سبق یہ ہے کہ مسجد عبادت کی جگہ ہے، اس لیے وہاں آتے وقت سادگی اور حیا کا خیال رکھا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسجد آتے وقت بناؤ سنگھار سے بچنے کی تنبیہ ملتی ہے۔
- عبادت کی جگہ کے آداب کا خیال رکھنا چاہیے۔
- سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس رویے پر سخت ناپسندیدگی ظاہر کی۔
- خواتین کے مسجد جانے کی اجازت کے ساتھ حیا اور سادگی کی تعلیم بھی ہے۔
