صحیح مسلم حدیث ۱۰۰۰ - خواتین کے بناؤ سنگھار والی روایت کی دوسری سند

مسجد کے آداب اور بناؤ سنگھار والی روایت کی تائید

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۰۰۰

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ ، قَالَ : ح وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، قَالَ : ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ كُلُّهُمْ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .

‏‏‏‏ اس سند سے بھی مذکورہ حدیث مروی ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۱۰۰۰ کا خلاصہ

اس روایت میں بتایا گیا ہے کہ اسی سند سے مذکورہ حدیث مروی ہے۔ اس کا تعلق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس قول سے ہے جس میں انہوں نے اپنے زمانے کی خواتین کے بناؤ سنگھار کو دیکھ کر فرمایا کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ حالت دیکھتے تو انہیں مسجد سے منع کر دیتے، جیسے بنی اسرائیل کی عورتوں کو منع کیا گیا تھا۔ چونکہ یہ روایت پچھلی بات کی تائید ہے، اس لیے اس کا مرکزی مضمون بھی مسجد کے آداب، خواتین کا بناؤ سنگھار، اور عبادت کے ماحول میں سادگی ہے۔ اسے ان احادیث کے ساتھ سمجھنا چاہیے جن میں خواتین کو مسجد جانے سے نہ روکنے کا حکم بھی آیا ہے، اور خوشبو سے بچنے کی ہدایت بھی۔ عام سبق یہ ہے کہ مسجد آتے وقت اصل توجہ عبادت پر ہونی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • یہ روایت بناؤ سنگھار والی پچھلی روایت کی تائید کرتی ہے۔
  • مسجد آتے وقت سادگی اور حیا کا خیال رکھنا چاہیے۔
  • عبادت کی جگہ پر توجہ عبادت ہی پر رہنی چاہیے۔
  • خواتین کے مسجد آنے کے آداب کو حدیث کی روشنی میں سمجھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں