صحیح مسلم حدیث ۹۸۸ - خواتین کو مسجد جانے سے نہ روکو
خواتین کو مسجد جانے کی اجازت: رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا واضح حکم
صحیح مسلم : ۹۸۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۹۸۸
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جميعا ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، سَمِعَ سَالِمًا يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا اسْتَأْذَنَتْ أَحَدَكُمُ امْرَأَتُهُ إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَلَا يَمْنَعْهَا " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری خواتین جب مسجد میں جانا چاہیں تو ان کو منع نہ کرو۔“
صحیح مسلم حدیث ۹۸۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کی بیوی مسجد جانے کی اجازت مانگے تو اسے منع نہ کرے۔ یہ بہت صاف اور مختصر حکم ہے۔ اس میں خواتین کے مسجد جانے کے بارے میں اجازت کا اصول بیان ہوا ہے۔ حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ جب خاتون مسجد جانا چاہے اور اجازت مانگے تو اسے روکا نہ جائے۔ اس روایت میں نہ کوئی لمبی بحث ہے، نہ کوئی سخت شرط بیان ہوئی، بلکہ سادہ حکم ہے کہ منع نہ کرو۔ اس لیے اس حدیث کو سمجھتے وقت الفاظ کے دائرے میں رہنا چاہیے۔ یہ روایت خواتین کا مسجد جانا، مسجد کی اجازت، اور گھر والوں کے رویے کے بارے میں واضح رہنمائی دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خواتین جب مسجد جانے کی اجازت مانگیں تو انہیں منع نہ کیا جائے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم سادہ اور واضح ہے۔
- گھر والوں کو دینی کام میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔
- حدیث کے الفاظ کو سنجیدگی سے قبول کرنا چاہیے۔
