صحیح مسلم حدیث ۹۸۹ - خواتین کو مسجد سے روکنے پر ابن عمر کی تنبیہ
حدیث کے حکم کے سامنے اپنی رائے نہ لانا
صحیح مسلم : ۹۸۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۹۸۹
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا تَمْنَعُوا نِسَاءَكُمُ الْمَسَاجِدَ ، إِذَا اسْتَأْذَنَّكُمْ إِلَيْهَا " ، قَالَ : فَقَالَ بِلَالُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : وَاللَّهِ لَنَمْنَعُهُنَّ ، قَالَ : فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ ، فَسَبَّهُ سَبًّا سَيِّئًا ، مَا سَمِعْتُهُ سَبَّهُ مِثْلَهُ قَطُّ ، وَقَالَ : أُخْبِرُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَتَقُولُ : وَاللَّهِ لَنَمْنَعُهُنَّ .
سالم نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان نقل کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”تمہاری خواتین جب مسجد جانا چاہیں تو انہیں مسجد میں جانے سے نہ روکو۔“ سیدنا بلال بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی زبانی یہ حدیث سننے کے بعد کہا: واللہ! ہم ان خواتین کو باز رکھیں گے۔ جس پہ سیدنا عبداللہ نے ان کو سخت برا بھلا کہا، میں نے انہیں کبھی (کسی کو) اتنا برا بھلا کہتے نہیں سنا۔ پھر اس کے بعد فرمایا: میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث تم کو بتلا رہا ہوں اور تم کہتے «ہو» کہ ہم خواتین کو باز رکھیں گے۔
صحیح مسلم حدیث ۹۸۹ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بیان کیا کہ اپنی خواتین کو مسجدوں سے نہ روکو جب وہ اجازت مانگیں۔ اس پر سیدنا بلال بن عبداللہ نے کہا کہ ہم انہیں ضرور روکیں گے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس بات پر سخت ناراضی ظاہر کی اور فرمایا کہ میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بتا رہا ہوں اور تم کہتے ہو کہ ہم روکیں گے۔ اس حدیث میں دو باتیں بہت صاف ہیں: پہلی یہ کہ خواتین کو مسجد جانے سے روکنے کی ممانعت آئی ہے، دوسری یہ کہ حدیث کے مقابلے میں اپنی ضد یا رائے پیش کرنا درست نہیں۔ یہ روایت اتباع حدیث، خواتین کا مسجد جانا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی عزت سکھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے مقابلے میں اپنی رائے نہیں رکھنی چاہیے۔
- خواتین کو مسجد جانے سے روکنے کی بات پر سخت تنبیہ آئی۔
- حدیث سن کر اسے قبول کرنا مومن کا طریقہ ہے۔
- دینی حکم میں ضد مناسب نہیں۔
