صحیح مسلم حدیث ۹۸۳ - مسجد کے کنارے بیٹھنے والوں کو آگے آنے کا حکم
مسجد کے پچھلے حصے سے آگے آ کر صف مکمل کرنے کی تعلیم
صحیح مسلم : ۹۸۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۹۸۳
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَوْمًا فِي مُؤَخَّرِ الْمَسْجِدِ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
ابو سعید خدری روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کچھ لوگوں کو کہ وہ مسجد کے کنارے میں بیٹھے ہوئے تھے پھر مذکورہ حدیث کے مثل بیان کی۔
صحیح مسلم حدیث ۹۸۳ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو مسجد کے پچھلے حصے میں دیکھا، پھر اسی مضمون کی بات فرمائی جو پہلی روایت میں بیان ہوئی۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ نماز میں صف بندی کا معاملہ صرف ظاہری ترتیب نہیں، بلکہ جماعت کے ادب کا حصہ ہے۔ جب جگہ موجود ہو تو آگے آنا، پہلی صف کو پورا کرنا اور امام کے قریب کھڑا ہونا بہتر ہے۔ مسجد کے کنارے یا پیچھے بلا وجہ بیٹھے رہنا اس تعلیم کے خلاف ہے جو حدیث میں آئی ہے۔ یہ روایت پہلی صف کی فضیلت، امام کے قریب رہنے اور نماز کی جماعت میں نظم قائم رکھنے کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ عام نمازی کے لیے آسان سبق یہ ہے کہ مسجد آئے تو صف کے آداب کا خیال کرے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسجد میں بلا ضرورت پیچھے رہنے کے بجائے صف میں آگے آنا چاہیے۔
- پہلی صف مکمل کرنا جماعت کے نظم کا حصہ ہے۔
- امام کے قریب رہنا نماز کی صف بندی میں بہتر ہے۔
- نماز میں صفوں کی ترتیب کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
