سنن نسائی حدیث ۱۰۵۰ - لمبا رکوع اور عظمت کی تسبیح
رات کی نماز میں لمبا رکوع اور عظمت والی تسبیح
سنن نسائی : ۱۰۵۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۰۵۰
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ يَعْنِي النَّسَائِيَّ ، قال : حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ ، قال : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ قَيْسٍ الْكِنْدِيِّ وَهُوَ عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ ، قال : سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ حُمَيْدٍ قال : سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ : " قُمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَلَمَّا رَكَعَ مَكَثَ قَدْرَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ : سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ " .
عوف بن مالک روایت:
میں ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (نماز کے لیے) کھڑا ہوا تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا، تو سورۃ البقرہ پڑھنے کے بقدر رکوع میں ٹھہرے، آپ اپنے رکوع میں «سبحان ذي الجبروت والملكوت والكبرياء والعظمة» ”میں صاحب قدرت و بادشاہت اور صاحب بزرگی و عظمت کی پاکی بیان کرتا ہوں“ پڑھ رہے تھے۔
سنن نسائی حدیث ۱۰۵۰ کا خلاصہ
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو سورۃ البقرہ پڑھنے کے بقدر رکوع میں ٹھہرے، اور اس دوران یہ تسبیح پڑھ رہے تھے: «سبحان ذي الجبروت والملكوت والكبرياء والعظمة»۔ اس حدیث میں رکوع کی تسبیح اور رات کی نماز دونوں کا ذکر ہے۔ یہاں رکوع بہت لمبا تھا، اس لیے یہ عام چھوٹی نماز کا بیان نہیں بلکہ اس خاص رات کی نماز کا واقعہ ہے۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ رکوع میں اللہ کی قدرت، بادشاہت، بزرگی اور عظمت کو یاد کیا جا سکتا ہے۔ الفاظ میں اللہ کی بڑائی ہے، اور عمل میں بندے کی عاجزی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رات کی نماز میں نبی صلى الله عليه وسلم سے لمبا رکوع منقول ہے۔
- رکوع میں اللہ کی قدرت، بادشاہت اور عظمت کی تسبیح بیان کی گئی۔
- حدیث کے واقعے کو اسی خاص نماز کے پس منظر میں سمجھنا چاہیے۔
- رکوع بندے کی عاجزی اور رب کی بڑائی کا مقام ہے۔
