سنن نسائی حدیث ۱۰۵۱ - رکوع میں عاجزی کی دعا
رکوع میں اللہ کے سامنے عاجزی کا اقرار
سنن نسائی : ۱۰۵۱
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۰۵۱
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، قال : حَدَّثَنَا عَمِّي الْمَاجِشُونُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَكَعَ قَالَ : اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَعِظَامِي وَمُخِّي وَعَصَبِي " .
علی بن ابی طالب روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع کرتے تو «اللہم لك ركعت ولك أسلمت وبك آمنت خشع لك سمعي وبصري وعظامي ومخي وعصبي» ”اے اللہ! میں نے تیرے لیے اپنی پیٹھ جھکا دی، اور اپنے آپ کو تیرے حوالے کر دیا، اور میں تجھ پر ایمان لایا، میرے کان، میری آنکھیں، میری ہڈیاں، میرے بھیجے اور میرے پٹھوں نے تیرے لیے عاجزی کا اظہار کیا“ پڑھتے تھے۔
سنن نسائی حدیث ۱۰۵۱ کا خلاصہ
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع کرتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم لك ركعت ولك أسلمت وبك آمنت خشع لك سمعي وبصري وعظامي ومخي وعصبي»۔ اس دعا میں بندہ اپنے رب کے سامنے کہتا ہے کہ اے اللہ! میں نے تیرے لیے رکوع کیا، تیرے لیے اسلام قبول کیا، تجھ پر ایمان لایا، اور میرے کان، آنکھیں، ہڈیاں، دماغ اور پٹھے تیرے لیے جھک گئے۔ یہ رکوع کی دعا صرف زبان کا ذکر نہیں، بلکہ پورے وجود کی عاجزی کا اقرار ہے۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ رکوع میں بندہ اپنے رب کے سامنے دل، جسم اور زبان سے جھکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رکوع میں اللہ کے لیے جھکنے کا اقرار کرنا نبی صلى الله عليه وسلم سے منقول ہے۔
- دعا میں ایمان، اسلام اور عاجزی کے الفاظ جمع ہیں۔
- نماز میں بندے کا پورا وجود اللہ کے سامنے عاجز ہوتا ہے۔
- رکوع کی دعا کو معنی سمجھ کر پڑھنا زیادہ بامعنی بناتا ہے۔
