سنن نسائی حدیث ۱۰۵۲ - رکوع میں ایمان اور توکل
رکوع کی دعا میں ایمان، اسلام اور توکل
سنن نسائی : ۱۰۵۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۰۵۲
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ ، قال : حَدَّثَنَا أَبُو حَيْوَةَ قال : حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَكَعَ قَالَ : " اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ أَنْتَ رَبِّي خَشَعَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَدَمِي وَلَحْمِي وَعَظْمِي وَعَصَبِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالِمِينَ " .
جابر بن عبداللہ روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع کرتے تو اس میں «اللہم لك ركعت وبك آمنت ولك أسلمت وعليك توكلت أنت ربي خشع سمعي وبصري ودمي ولحمي وعظمي وعصبي لله رب العالمين» ”اے اللہ! میں نے تیرے لیے ہی اپنا سر جھکا دیا، تیرے اوپر ہی ایمان لایا، میں نے اپنے آپ کو تیرے ہی حوالے کر دیا، تیرے ہی اوپر بھروسہ کیا، تو میرا رب ہے، میرے کان، میری آنکھ، میرا خون، میرا گوشت، میری ہڈیاں اور میرے پٹھے نے اللہ کے لیے جو سارے جہانوں کا رب ہے عاجزی کا اظہار کیا ہے“ پڑھتے تھے۔
سنن نسائی حدیث ۱۰۵۲ کا خلاصہ
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع کرتے تو ایک جامع دعا پڑھتے۔ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: اے اللہ! میں نے تیرے لیے رکوع کیا، تجھ پر ایمان لایا، تیرے لیے اسلام قبول کیا، تجھ ہی پر بھروسہ کیا، تو میرا رب ہے۔ پھر کان، آنکھ، خون، گوشت، ہڈی اور پٹھوں کی عاجزی کا ذکر آتا ہے۔ اس حدیث میں رکوع کی دعا کا بہت گہرا مگر سادہ پیغام ہے: بندہ صرف جسم نہیں جھکاتا، بلکہ اپنے یقین، بھروسے اور وجود کو اللہ کے سامنے پیش کرتا ہے۔ یہاں توکل کا لفظ بھی آیا ہے، اس لیے یہ دعا نماز میں اعتماد اور بندگی دونوں کو جمع کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رکوع میں اللہ پر ایمان اور توکل کا اقرار کیا گیا ہے۔
- دعا میں جسم کے مختلف اعضا کی عاجزی کا ذکر ہے۔
- نماز بندے کو اپنے رب کے سامنے مکمل بندگی سکھاتی ہے۔
- حدیث میں جو الفاظ آئے ہیں انہیں معنی کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔
