سنن نسائی حدیث ۱۰۷۳ - دوسری رکعت میں مختصر قیام
فجر کی دوسری رکعت میں قنوت کا اشارہ
سنن نسائی : ۱۰۷۳
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۰۷۳
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ ، قال : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، قال : حَدَّثَنِي بَعْضُ مَنْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ فَلَمَّا قَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ قَامَ هُنَيْهَةً " .
ابن سیرین روایت:
مجھ سے ایک ایسے شخص نے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز فجر پڑھی تھی، بیان کیا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری رکعت میں «سمع اللہ لمن حمده» کہا تو آپ تھوڑی دیر کھڑے رہے۔
سنن نسائی حدیث ۱۰۷۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابن سیرین بیان کرتے ہیں کہ ایک ایسے شخص نے انہیں خبر دی جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز فجر پڑھی تھی۔ اس شخص کے مطابق جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری رکعت میں سمع اللہ لمن حمدہ کہا تو آپ تھوڑی دیر کھڑے رہے۔ حدیث کے الفاظ مختصر ہیں، اس میں قنوت کے الفاظ نقل نہیں کیے گئے، صرف یہ بیان ہے کہ فجر کی دوسری رکعت میں رکوع کے بعد آپ کا کچھ دیر قیام ہوا۔ اس لیے اس روایت کو فجر میں رکوع کے بعد قیام، سمع اللہ لمن حمدہ کے بعد ٹھہراؤ اور قنوت کے مقام سے متعلق سمجھا جا سکتا ہے۔ متن سے باہر کوئی زائد تفصیل شامل نہیں کی جا سکتی۔ نمازی کے لیے اس میں یہ سبق ہے کہ نماز میں رکوع کے بعد کا قیام بھی ایک مستقل اور باادب مقام ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- فجر کی دوسری رکعت میں رکوع کے بعد کچھ دیر قیام کا بیان ہے۔
- حدیث میں قنوت کے الفاظ ذکر نہیں کیے گئے۔
- سمع اللہ لمن حمدہ کے بعد ٹھہراؤ نماز کا حصہ ہے۔
- نماز کے ہر مقام کو سکون کے ساتھ ادا کرنا چاہیے۔
