سنن نسائی حدیث ۱۰۷۲ - فجر میں قنوت کا وقت
فجر میں رکوع کے بعد قنوت
سنن نسائی : ۱۰۷۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۰۷۲
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ سُئِلَ " هَلْ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ قَالَ : نَعَمْ فَقِيلَ لَهُ قَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَهُ قَالَ : بَعْدَ الرُّكُوعِ " .
ابن سیرین روایت:
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر میں قنوت پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! (پڑھی ہے) پھر ان سے پوچھا گیا، رکوع سے پہلے یا رکوع کے بعد؟ رکوع کے بعد۔
سنن نسائی حدیث ۱۰۷۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابن سیرین کے ذریعے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ایک مختصر سوال و جواب نقل ہوا ہے۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر میں قنوت پڑھی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ پھر پوچھا گیا کہ رکوع سے پہلے یا رکوع کے بعد؟ انہوں نے جواب دیا: رکوع کے بعد۔ یہ حدیث فجر کی قنوت، دعائے قنوت کا وقت اور رکوع کے بعد دعا کے بارے میں بالکل صاف بات کرتی ہے۔ اس میں قنوت کے الفاظ ذکر نہیں کیے گئے، نہ یہ بتایا گیا کہ کتنی مدت تک پڑھی گئی۔ اس لیے وضاحت بھی اسی حد تک رہنی چاہیے کہ فجر میں قنوت پڑھی گئی اور وہ رکوع کے بعد تھی۔ جو لوگ نماز فجر میں قنوت کے وقت کے بارے میں تلاش کرتے ہیں، ان کے لیے یہ روایت خاص طور پر اہم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- انس رضی اللہ عنہ کے بیان کے مطابق فجر میں قنوت پڑھی گئی۔
- اس روایت میں قنوت کا مقام رکوع کے بعد بتایا گیا ہے۔
- حدیث میں قنوت کے الفاظ ذکر نہیں ہوئے۔
- مسئلہ پوچھنے پر صحابی نے مختصر اور واضح جواب دیا۔
