سنن نسائی حدیث ۱۰۷۷ - فجر اور مغرب میں قنوت
فجر اور مغرب میں دعائے قنوت
سنن نسائی : ۱۰۷۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۰۷۷
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، وَشُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ . ح ، وأَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قال : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، وَسُفْيَانَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يَقْنُتُ فِي الصُّبْحِ وَالْمَغْرِبِ " وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
براء بن عازب روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر میں اور مغرب میں دعائے قنوت پڑھتے تھے۔ عبیداللہ بن سعید کی روایت میں «أن النبي صلى اللہ عليه وسلم» کے بجائے «أن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم» ہے۔
سنن نسائی حدیث ۱۰۷۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر اور مغرب میں دعائے قنوت پڑھتے تھے۔ روایت کے آخر میں سند کے الفاظ کا فرق بھی ذکر ہوا ہے کہ ایک روایت میں النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ آئے۔ اصل بات یہ ہے کہ حدیث فجر کی قنوت اور مغرب کی قنوت دونوں کا ذکر کرتی ہے۔ اس میں قنوت کے الفاظ، مدت یا وجہ بیان نہیں ہوئی، اس لیے وضاحت بھی اسی حد میں رہنی چاہیے۔ جو لوگ فجر میں قنوت، مغرب میں قنوت، یا نماز میں دعائے قنوت کی حدیث تلاش کرتے ہیں، ان کے لیے یہ روایت مختصر مگر اہم ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض نمازوں میں قنوت کا عمل نقل ہوا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اس روایت میں فجر میں قنوت پڑھنے کا ذکر ہے۔
- اسی حدیث میں مغرب میں قنوت پڑھنے کا بھی بیان ہے۔
- حدیث میں قنوت کے الفاظ نقل نہیں ہوئے۔
- روایت میں سند کے الفاظ کا فرق بھی محفوظ کیا گیا ہے۔
