سنن نسائی حدیث ۱۰۷۶ - مومنوں کے لیے قنوت کی دعا
قنوت میں مومنوں کے لیے دعا
سنن نسائی : ۱۰۷۶
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۰۷۶
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سَلْمٍ الْبَلْخِيُّ ، قال : حَدَّثَنَا النَّضْرُ ، قال : أَنْبَأَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال : " لَأُقَرِّبَنَّ لَكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقْنُتُ فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ وَصَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ وَصَلَاةِ الصُّبْحِ بَعْدَ مَا يَقُولُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَيَدْعُو لِلْمُؤْمِنِينَ وَيَلْعَنُ الْكَفَرَةَ " .
ابوہریرہ روایت:
انہوں نے کہا کہ میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز قریب تر کر کے دکھاؤں گا، چنانچہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ «سمع اللہ لمن حمده» کہنے کے بعد ظہر کی آخری رکعت میں اور عشاء میں، اور فجر میں دعائے قنوت پڑھتے، تو مومنوں کے لیے دعا کرتے اور کافروں پر لعنت بھیجتے تھے۔
سنن نسائی حدیث ۱۰۷۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے قریب تر کر کے دکھاؤں گا۔ پھر روایت میں ذکر ہے کہ وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہنے کے بعد ظہر کی آخری رکعت، عشاء اور فجر میں دعائے قنوت پڑھتے۔ اس قنوت میں وہ مومنوں کے لیے دعا کرتے اور کافروں پر لعنت بھیجتے۔ اس حدیث کا موضوع قنوت، مومنوں کے لیے دعا، رکوع کے بعد دعا اور نماز میں مخصوص دعا ہے۔ متن میں یہ بھی ہے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے عمل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے قریب بتا رہے تھے۔ یہاں قنوت کے الفاظ تفصیل سے نہیں آئے، بلکہ دعا کے رخ کو بیان کیا گیا ہے: مومنوں کے لیے خیر کی دعا اور کافروں کے خلاف لعنت۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے قریب عمل دکھانے کی بات کی۔
- قنوت سمع اللہ لمن حمدہ کے بعد پڑھی گئی۔
- قنوت میں مومنوں کے لیے دعا کی گئی۔
- روایت میں کافروں پر لعنت کا ذکر بھی آیا ہے۔
