سنن نسائی حدیث ۱۰۷۱ - رکوع کے بعد قنوت
رکوع کے بعد دعائے قنوت کی حدیث
سنن نسائی : ۱۰۷۱
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۰۷۱
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قال : " قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ ، وَذَكْوَانَ ، وَعُصَيَّةَ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ " .
انس بن مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک رکوع کے بعد دعائے قنوت پڑھی، آپ اس میں رعل، ذکوان اور عصیہ نامی قبائل پر جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی تھی، بد دعا کرتے رہے۔
سنن نسائی حدیث ۱۰۷۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک رکوع کے بعد دعائے قنوت پڑھی۔ اس قنوت میں آپ رعل، ذکوان اور عصیہ نامی قبائل کے خلاف دعا کرتے رہے، کیونکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی تھی۔ حدیث کا اصل موضوع قنوت نازلہ، رکوع کے بعد دعا اور نماز میں مخصوص موقع پر دعا ہے۔ یہاں یہ بات واضح ہے کہ قنوت ایک خاص مدت، یعنی ایک مہینہ، کے لیے بیان ہوئی ہے۔ اس میں عام گفتگو یا لمبی تفصیل نہیں، بلکہ صرف اتنا ذکر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کے بعد ان قبائل پر بد دعا فرمائی۔ اس حدیث کو سمجھتے ہوئے متن کے الفاظ ہی تک رہنا چاہیے: قنوت، ایک مہینہ، رکوع کے بعد، اور نافرمان قبائل کے خلاف دعا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کے بعد قنوت پڑھی۔
- یہ قنوت ایک مہینے تک بیان ہوئی ہے۔
- قنوت میں مخصوص قبائل کے خلاف دعا کی گئی۔
- نماز میں دعا کا یہ موقع حدیث سے ثابت ہے۔
