سنن نسائی حدیث ۱۰۸۰ - قنوت نازلہ پھر ترک کر دی
قنوت نازلہ چھوڑ دینے کی حدیث
سنن نسائی : ۱۰۸۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۰۸۰
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : أَنْبَأَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قال : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَنَتَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ ثُمَّ تَرَكَهُ " .
انس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ تک دعائے قنوت پڑھی، آپ عرب کے ایک قبیلے پر بد دعا کر رہے تھے، پھر آپ نے اسے ترک کر دیا۔
سنن نسائی حدیث ۱۰۸۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ تک دعائے قنوت پڑھی۔ آپ عرب کے ایک قبیلے پر بد دعا کر رہے تھے، پھر آپ نے اسے ترک کر دیا۔ روایت مختصر ہے، مگر قنوت نازلہ کے بارے میں اہم بات بتاتی ہے کہ یہ ایک خاص مدت کے لیے تھی اور پھر چھوڑ دی گئی۔ اس حدیث میں قبیلے کا نام نہیں آیا، صرف یہ بتایا گیا کہ عرب کے ایک قبیلے کے خلاف دعا کی گئی۔ اس لیے وضاحت میں ناموں یا وجہ کی تفصیل شامل نہیں کی جانی چاہیے جو اس متن میں موجود نہیں۔ قنوت نازلہ، ایک مہینہ قنوت، بد دعا اور قنوت ترک کرنا اس روایت کے اہم الفاظ ہیں۔ اس سے نماز میں دعا کے مخصوص موقع اور مخصوص مدت کا بیان سمجھ میں آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ قنوت پڑھی۔
- قنوت میں ایک عرب قبیلے کے خلاف بد دعا کی گئی۔
- حدیث میں قنوت کے بعد اسے چھوڑ دینے کا ذکر ہے۔
- روایت مختصر ہے، اس لیے اسے اسی حد تک سمجھنا چاہیے۔
