سنن نسائی حدیث ۱۰۷۰ - رکوع سجدہ کے مسنون اذکار
رکوع سجدہ کے مسنون اذکار
سنن نسائی : ۱۰۷۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۰۷۰
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، قال : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قال : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَبْسٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَسَمِعَهُ حِينَ كَبَّرَ قَالَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ ذَا الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ وَكَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَالَ لِرَبِّيَ الْحَمْدُ لِرَبِّيَ الْحَمْدُ وَفِي سُجُودِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى وَبَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ رَبِّي اغْفِرْ لِي رَبِّي اغْفِرْ لِي وَكَانَ قِيَامُهُ وَرُكُوعُهُ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَسُجُودُهُ وَمَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ " .
حذیفہ روایت:
´حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` ایک رات انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، جب آپ نے تکبیر کہی تو انہوں نے آپ کو کہتے سنا: «اللہ أكبر ذا الجبروت والملكوت والكبرياء والعظمة» ”اللہ سب سے بڑا صاحب قدرت و سطوت اور صاحب بزرگی و عظمت ہے“، اور آپ رکوع میں «سبحان ربي العظيم» کہتے، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو: «لربي الحمد لربي الحمد»، ”شکر میرے رب کے لیے، شکر میرے رب کے لیے“ کہتے، اور سجدے میں «سبحان ربي الأعلى» کہتے، اور دونوں سجدوں کے درمیان «رب اغفر لي رب اغفر لي» ”اے میرے رب! میری مغفرت فرما، اے میرے رب! میری مغفرت فرما“ کہتے، اور آپ کا قیام کرنا، رکوع کرنا، اور رکوع سے سر اٹھانا، اور آپ کا سجدہ کرنا، اور دونوں سجدوں کے درمیان ٹھہرنا، تقریباً سب برابر برابر ہوتا۔
سنن نسائی حدیث ۱۰۷۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے کا بیان کیا۔ انہوں نے سنا کہ آپ تکبیر کے وقت اللہ اکبر ذا الجبروت والملکوت والکبریاء والعظمۃ کہتے۔ رکوع میں سبحان ربی العظیم، رکوع سے سر اٹھانے کے بعد لربی الحمد لربی الحمد، سجدے میں سبحان ربی الاعلی، اور دونوں سجدوں کے درمیان رب اغفر لی رب اغفر لی کہتے۔ حدیث کے آخر میں یہ بھی بیان ہوا کہ آپ کا قیام، رکوع، قومہ، سجدہ اور دونوں سجدوں کے درمیان ٹھہرنا تقریباً برابر برابر ہوتا تھا۔ یہ روایت رکوع سجدہ کے اذکار، نماز میں ٹھہراؤ، رب اغفر لی اور سبحان ربی الاعلی جیسے الفاظ کو جمع کرتی ہے۔ اس سے نمازی کو معلوم ہوتا ہے کہ نماز کا ہر حصہ ذکر، حمد اور دعا سے بھرا ہوا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رکوع میں سبحان ربی العظیم کہنا ثابت ہے۔
- سجدے میں سبحان ربی الاعلی پڑھا جاتا ہے۔
- دونوں سجدوں کے درمیان مغفرت کی دعا کی گئی ہے۔
- نماز کے ارکان میں ٹھہراؤ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت ہے۔
