سنن نسائی حدیث ۱۰۶۶ - رکوع اور سجدے میں ٹھہراؤ
رکوع اور سجدے میں ٹھہراؤ کی حدیث
سنن نسائی : ۱۰۶۶
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۰۶۶
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، قال : أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ رُكُوعُهُ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَسُجُودُهُ وَمَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ " .
براء بن عازب روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رکوع کرنا، اور رکوع سے سر اٹھانا اور سجدہ کرنا، اور دونوں سجدوں کے درمیان ٹھہرنا، تقریباً برابر برابر ہوتا تھا۔
سنن نسائی حدیث ۱۰۶۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا ایک نہایت اہم انداز بیان ہوا ہے۔ براء بن عازب رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رکوع، رکوع سے سر اٹھانا، سجدہ کرنا، اور دونوں سجدوں کے درمیان ٹھہرنا تقریباً برابر برابر ہوتا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز صرف جلدی جلدی حرکات کا نام نہیں، بلکہ ہر رکن میں ٹھہراؤ اور سکون بھی مطلوب ہے۔ رکوع میں اطمینان، سجدے میں اطمینان، قومہ اور جلسہ جیسے الفاظ اسی حدیث کے قریب ہیں۔ حدیث میں کوئی لمبی دعا یا اضافی بات نہیں، بلکہ صرف نماز کے انداز کا بیان ہے۔ ایک نمازی کو چاہیے کہ رکوع سے اٹھ کر بھی ٹھہرے، دونوں سجدوں کے درمیان بھی جلدی نہ کرے، اور نماز کو آرام کے ساتھ ادا کرے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رکوع، سجدہ اور دونوں سجدوں کے درمیان ٹھہرنا نماز کا اہم ادب ہے۔
- نماز میں جلدی کے بجائے سکون اختیار کرنا چاہیے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز میں مختلف ارکان کے درمیان توازن تھا۔
- قومہ اور جلسہ کو معمولی نہ سمجھا جائے۔
