سنن نسائی حدیث ۱۰۶۷ - آسمان و زمین بھر حمد
رکوع کے بعد آسمان و زمین بھر حمد
سنن نسائی : ۱۰۶۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۰۶۷
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ سَيْفٍ الْحَرَّانِيُّ ، قال : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، قال : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ قَالَ : اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب «سمع اللہ لمن حمده» کہتے، تو «اللہم ربنا لك الحمد ملء السموات وملء الأرض وملء ما شئت من شىء بعد» ”اے اللہ! تیری تعریف ہے، آسمانوں بھر، زمین بھر اور اس کے بعد تو جس چیز بھر چاہے“ کہتے۔
سنن نسائی حدیث ۱۰۶۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مبارک ذکر بیان کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب سمع اللہ لمن حمدہ کہتے تو اللہم ربنا لک الحمد ملء السماوات وملء الارض وملء ما شئت من شیء بعد کہتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اے اللہ! تیرے لیے حمد ہے، آسمانوں بھر، زمین بھر، اور اس کے بعد جس چیز بھر تو چاہے۔ یہ حدیث رکوع کے بعد کی دعا، ربنا لک الحمد، حمد بعد رکوع اور نماز میں اللہ کی تعریف کے بارے میں ہے۔ الفاظ میں بندے کی عاجزی بھی ہے اور اللہ کی بڑائی کا اقرار بھی۔ نمازی جب رکوع سے اٹھتا ہے تو یہ وقت اللہ کی حمد کا ہے، اس لیے اسے سمجھ کر اور ادب کے ساتھ پڑھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رکوع کے بعد اللہ کی حمد کے الفاظ پڑھنا سنت سے ثابت ہے۔
- حمد میں اللہ کی بڑائی اور بندے کی عاجزی ظاہر ہوتی ہے۔
- نماز کے اذکار کو معنی سمجھ کر پڑھنا بہتر ہے۔
- سمع اللہ لمن حمدہ کے بعد حمد کے مختلف الفاظ منقول ہیں۔
