سنن نسائی حدیث ۱۰۶۸ - سجدے سے پہلے حمد کے کلمات

سجدے سے پہلے ربنا ولک الحمد

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۰۶۸

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قال : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، قال : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مِينَاسٍ الْعَدَنِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَانَ إِذَا أَرَادَ السُّجُودَ بَعْدَ الرَّكْعَةِ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ " .

عبداللہ بن عباس روایت:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع کے بعد سجدے کا ارادہ کرتے تو «اللہم ربنا ولك الحمد ملء السموات وملء الأرض وملء ما شئت من شىء بعد» ”اے ہمارے رب! تیری تعریف ہے، تیرا شکر ہے آسمان و زمین بھر اور اس کے بعد تو جس چیز بھر چاہے“ کہتے۔

سنن نسائی حدیث ۱۰۶۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع کے بعد سجدے کا ارادہ کرتے تو اللہم ربنا ولک الحمد ملء السماوات وملء الارض وملء ما شئت من شیء بعد کہتے۔ یعنی اے ہمارے رب! تیرے لیے حمد ہے، آسمان و زمین بھر، اور اس کے بعد جس چیز بھر تو چاہے۔ یہاں نماز کا وہ حصہ بیان ہوا ہے جو رکوع کے بعد اور سجدے سے پہلے آتا ہے۔ اسی جگہ کو قومہ کہا جاتا ہے۔ حدیث میں ربنا ولک الحمد، رکوع کے بعد کی دعا، سجدے سے پہلے حمد اور نماز کے اذکار کا ذکر ہے۔ یہ الفاظ بندے کو یاد دلاتے ہیں کہ نماز کی ہر حرکت اللہ کی تعریف اور بندگی سے جڑی ہوئی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رکوع کے بعد سجدے سے پہلے اللہ کی حمد کہنا ثابت ہے۔
  • قومہ میں جلدی کرنے کے بجائے ذکر کے ساتھ ٹھہرنا چاہیے۔
  • ربنا ولک الحمد کے الفاظ اللہ کی نعمتوں کے اعتراف پر مشتمل ہیں۔
  • نماز میں ہر رکن کا اپنا ادب اور ذکر ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں