سنن نسائی حدیث ۱۰۶۹ - اہل الثناء والمجد کی دعا
رکوع کے بعد اہل الثناء والمجد کی دعا
سنن نسائی : ۱۰۶۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۰۶۹
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ أَبُو أُمَيَّةَ الْحَرَّانِيُّ ، قال : حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ قَزَعَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَانَ يَقُولُ حِينَ يَقُولُ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ خَيْرُ مَا قَالَ : الْعَبْدُ وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ لَا مَانِعَ لَمَا أَعْطَيْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ " .
ابو سعید خدری روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب «سمع اللہ لمن حمده» کہتے، تو «ربنا لك الحمد ملء السموات وملء الأرض وملء ما شئت من شىء بعد أهل الثناء والمجد خير ما قال العبد وكلنا لك عبد لا مانع لما أعطيت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» ”اے اللہ، ہمارے رب! تیرا شکر ہے آسمان و زمین بھر، اور اس کے بعد تو جس چیز بھر چاہے، اے لائق تعریف و لائق مجد و شرف! بہتر ہے جو بندے نے کہا، اور ہم سب تیرے بندے ہیں، کوئی روکنے والا نہیں جسے تو دیدے، تیرے مقابلے میں مالداروں کی مالداری کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچائے گی“ کہتے۔
سنن نسائی حدیث ۱۰۶۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رکوع کے بعد کہے جانے والے جامع کلمات بیان ہوئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سمع اللہ لمن حمدہ کے بعد ربنا لک الحمد ملء السماوات وملء الارض وملء ما شئت من شیء بعد کہتے، پھر اللہ کو اہل الثناء والمجد یعنی تعریف اور بزرگی کا مالک کہتے۔ اس دعا میں یہ بھی ہے کہ بہتر بات وہ ہے جو بندہ کہے، اور ہم سب تیرے بندے ہیں۔ پھر فرمایا کہ جسے اللہ دے، اسے کوئی روک نہیں سکتا، اور اللہ کے مقابلے میں کسی مالدار کی مالداری اسے فائدہ نہیں دے سکتی۔ یہ حدیث حمد بعد رکوع، اللہ کی عطا، بندگی اور نماز کی دعا سے متعلق ہے۔ اس میں نمازی کو بتایا جاتا ہے کہ اصل اختیار اللہ کے پاس ہے اور بندہ اسی کا محتاج ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رکوع کے بعد اللہ کی حمد اور ثنا کے جامع الفاظ پڑھنا ثابت ہے۔
- بندہ اپنی بندگی اور اللہ کی عطا کا اقرار کرتا ہے۔
- اللہ جسے عطا کرے اسے کوئی روکنے والا نہیں۔
- مالداری اللہ کے مقابلے میں کوئی فائدہ نہیں دیتی۔
