سنن نسائی حدیث ۱۰۸۲ - گرم زمین پر سجدہ کا طریقہ
گرم زمین پر سجدہ اور پیشانی رکھنے کا اہتمام
سنن نسائی : ۱۰۸۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۰۸۲
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا عَبَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قال : " كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فَآخُذُ قَبْضَةً مِنْ حَصًى فِي كَفِّي أُبَرِّدُهُ ثُمَّ أُحَوِّلُهُ فِي كَفِّي الْآخَرِ فَإِذَا سَجَدْتُ وَضَعْتُهُ لِجَبْهَتِي " .
جابر بن عبداللہ روایت:
ہم ظہر کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتے تھے، میں نماز میں ہی ایک مٹھی کنکری اپنے ہاتھ میں لے لیتا، اسے ٹھنڈا کرتا، پھر اسے دوسرے ہاتھ میں پلٹ دیتا، تو جب سجدہ کرتا تو اسے اپنی پیشانی کے نیچے رکھ لیتا۔
سنن نسائی حدیث ۱۰۸۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما ظہر کی نماز کا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے۔ گرمی کی وجہ سے کنکریاں گرم ہو جاتیں، اس لیے وہ نماز ہی میں ایک مٹھی کنکری ہاتھ میں لے کر ٹھنڈی کرتے، پھر دوسرے ہاتھ میں پلٹتے، اور سجدہ کے وقت اپنی پیشانی کے نیچے رکھ لیتے۔ اس روایت کا اصل موضوع سجدہ میں پیشانی رکھنا اور نماز میں گرمی کی تکلیف کے باوجود سجدہ ادا کرنا ہے۔ یہاں بات صرف اسی عمل کی ہے کہ صحابی نے سجدہ کے لیے پیشانی کے نیچے ٹھنڈی کنکری رکھی۔ اس سے نماز کے اندر سجدہ کی جگہ، پیشانی کا زمین سے تعلق، اور سجدہ کے ادب کا پہلو صاف سمجھ میں آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سجدہ کرتے وقت پیشانی رکھنے کا اہتمام حدیث کے متن سے واضح ہے۔
- گرم زمین کی تکلیف کے باوجود صحابہ نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ادا کرتے تھے۔
- جابر رضی اللہ عنہ نے نماز ہی کے اندر کنکری ٹھنڈی کر کے سجدہ کے لیے استعمال کی۔
- حدیث میں سجدہ کی جگہ کے بارے میں ایک عملی واقعہ بیان ہوا ہے، اضافی حکم نہیں۔
