سنن نسائی حدیث ۱۰۹۸ - سات ہڈیوں پر سجدہ
سات ہڈیوں پر سجدہ: اعضاء کی واضح فہرست
سنن نسائی : ۱۰۹۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۰۹۸
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ النَّسَائِيُّ ، قال : حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، قال : حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ عَلَى الْجَبْهَةِ وَأَشَارَ بِيَدِهِ عَلَى الْأَنْفِ وَالْيَدَيْنِ وَالرُّكْبَتَيْنِ وَأَطْرَافِ الْقَدَمَيْنِ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے: پیشانی پر، اور آپ نے اپنے ہاتھ سے ناک پر کا اشارہ کیا، اور دونوں ہتھیلیوں، دونوں گھٹنے، اور دونوں پیر کے کناروں یعنی انگلیوں پر۔
سنن نسائی حدیث ۱۰۹۸ کا خلاصہ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشانی کا ذکر کیا اور اپنے ہاتھ سے ناک کی طرف اشارہ کیا۔ اس کے بعد دونوں ہتھیلیوں، دونوں گھٹنوں، اور دونوں پاؤں کے کناروں یعنی انگلیوں کا ذکر آیا۔ اس روایت میں سجدہ کے اعضاء بہت صاف انداز میں بیان ہوئے ہیں۔ پیشانی اور ناک، ہاتھ، گھٹنے اور پاؤں کے کنارے سجدہ میں شامل ہیں۔ حدیث کا مقصد سجدہ کے اعضاء کی گنتی بتانا ہے، نہ کہ کوئی لمبی بحث کھولنا۔ اسی لیے اسے سات ہڈیوں پر سجدہ، سجدہ کے سات اعضاء، اور پاؤں کی انگلیوں پر سجدہ کی حدیث کے نام سے تلاش کیا جاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم بیان ہوا ہے۔
- پیشانی کے ساتھ ناک کی طرف اشارہ کیا گیا۔
- دونوں ہتھیلیاں اور دونوں گھٹنے سجدہ میں شامل ہیں۔
- پاؤں کے کناروں یعنی انگلیوں کا بھی ذکر آیا ہے۔
