سنن نسائی حدیث ۱۰۹۹ - سجدہ کے اعضاء اور بال کپڑے نہ سمیٹنا
سجدہ کے اعضاء: پیشانی، ناک، ہاتھ، گھٹنے اور انگلیاں
سنن نسائی : ۱۰۹۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۰۹۹
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْمَكِّيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعٍ وَنُهِيَ أَنْ يَكْفِتَ الشَّعْرَ وَالثِّيَابَ عَلَى يَدَيْهِ وَرُكْبَتَيْهِ وَأَطْرَافِ أَصَابِعِهِ " قَالَ سُفْيَانُ ، قَالَ لَنَا ابْنُ طَاوُسٍ " وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى جَبْهَتِهِ وَأَمَرَّهَا عَلَى أَنْفِهِ " قَالَ هَذَا وَاحِدٌ وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ .
عبداللہ بن عباس روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا، اور بالوں اور کپڑوں کو سمیٹنے سے روکا گیا: اپنی دونوں ہتھیلیوں، دونوں گھٹنے اور انگلیوں کے سروں پر۔ سفیان کہتے ہیں: ابن طاؤس نے اپنے دونوں ہاتھ پیشانی پر رکھے، اور انہیں اپنی ناک پر گزارا، اور کہا: یہ سب ایک ہے۔ امام نسائی کہتے ہیں: یہ الفاظ محمد بن منصور کے ہیں۔
سنن نسائی حدیث ۱۰۹۹ کا خلاصہ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا، اور بالوں اور کپڑوں کو سمیٹنے سے روکا گیا۔ روایت میں ہاتھوں، گھٹنوں اور انگلیوں کے سروں کا ذکر ہے۔ سفیان کہتے ہیں کہ ابن طاؤس نے اپنے دونوں ہاتھ پیشانی پر رکھے، انہیں ناک پر گزارا، اور کہا کہ یہ سب ایک ہے۔ اس حدیث کا موضوع سات اعضاء پر سجدہ اور بال کپڑے نہ سمیٹنا ہے۔ یہاں پیشانی اور ناک کو ایک ہی سجدہ والے حصے کے طور پر سمجھایا گیا ہے۔ متن میں امام نسائی کا یہ بیان بھی ہے کہ الفاظ محمد بن منصور کے ہیں۔ یہ روایت سجدہ کے اعضاء کی تفصیل اور نماز میں کپڑے یا بال سمیٹنے سے بچنے کے باب میں اہم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم بیان ہوا ہے۔
- بال اور کپڑے سمیٹنے سے روکا گیا ہے۔
- ہاتھ، گھٹنے اور انگلیوں کے سروں کا ذکر آیا ہے۔
- ابن طاؤس نے پیشانی اور ناک کے تعلق کو عملی اشارے سے سمجھایا۔
