سنن نسائی حدیث ۱۰۹۰ - سجدہ میں گھٹنے پہلے رکھنے کی حدیث
سجدہ میں جاتے وقت گھٹنے اور ہاتھ رکھنے کا طریقہ
سنن نسائی : ۱۰۹۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۰۹۰
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْقًوْمَسِيُّ الْبَسْطَامِيُّ ، قال : حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ هَارُونَ ، قال : أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، قال : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ وَضَعَ رُكْبَتَيْهِ قَبْلَ يَدَيْهِ وَإِذَا نَهَضَ رَفَعَ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ " .
وائل بن حجر روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھوں سے پہلے اپنے گھٹنے رکھتے، اور جب اٹھتے تو اپنے گھٹنوں سے پہلے اپنے ہاتھ اٹھاتے۔
سنن نسائی حدیث ۱۰۹۰ کا خلاصہ
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھوں سے پہلے گھٹنے رکھتے، اور جب اٹھتے تو اپنے گھٹنوں سے پہلے ہاتھ اٹھاتے۔ اس حدیث کا اصل موضوع سجدہ میں جانے اور سجدہ سے اٹھنے کا طریقہ ہے۔ متن میں دو باتیں صاف ہیں: سجدہ میں جاتے وقت گھٹنے پہلے، ہاتھ بعد میں؛ اور اٹھتے وقت ہاتھ پہلے، گھٹنے بعد میں۔ یہاں اس روایت کو دوسری روایات کے ساتھ ملانے یا کسی بحث کو لمبا کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ اس حدیث میں صرف وائل رضی اللہ عنہ کا دیکھا ہوا عمل نقل ہوا ہے۔ اسی وجہ سے لوگ اسے سجدہ میں گھٹنے پہلے رکھنے کی حدیث اور نماز میں سجدہ کا طریقہ کے نام سے تلاش کرتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سجدہ میں جاتے وقت گھٹنے پہلے رکھنے کا ذکر ہے۔
- سجدہ سے اٹھتے وقت ہاتھ پہلے اٹھانے کا ذکر ہے۔
- یہ روایت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کے مشاہدے پر مبنی ہے۔
- حدیث سجدہ کے اندر جسمانی ترتیب کا ایک طریقہ بیان کرتی ہے۔
