سنن نسائی حدیث ۱۰۸۹ - رکوع میں رفع یدین اور سجدہ میں نہیں

رفع یدین کب کیا گیا؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۰۸۹

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْكُوفِيُّ الْمُحَارِبِيُّ ، قال : حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قال : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ وَإِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ وَكَانَ لَا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے، اور جب رکوع کرتے، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے، تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے اور سجدہ کرنے میں ایسا نہیں کرتے تھے۔

سنن نسائی حدیث ۱۰۸۹ کا خلاصہ

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا ایک مخصوص عمل بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے وقت دونوں ہاتھ اٹھاتے، جب رکوع کرتے تو ہاتھ اٹھاتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی ہاتھ اٹھاتے۔ اسی روایت میں صاف الفاظ ہیں کہ آپ سجدہ میں ایسا نہیں کرتے تھے۔ اس حدیث کا موضوع رفع یدین ہے، مگر اس میں جگہوں کی تعیین بھی موجود ہے۔ اس لیے اسے رکوع میں رفع یدین، نماز شروع کرتے وقت رفع یدین، اور سجدہ میں رفع یدین نہ کرنے کی روایت کے طور پر تلاش کیا جاتا ہے۔ متن کی پابندی ضروری ہے؛ یہاں روایت صرف انہی موقعوں کا ذکر کرتی ہے جو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز شروع کرتے وقت دونوں ہاتھ اٹھانے کا ذکر ہے۔
  • رکوع کے وقت رفع یدین بیان ہوا ہے۔
  • رکوع سے سر اٹھاتے وقت بھی ہاتھ اٹھانے کا ذکر ہے۔
  • اس روایت میں سجدہ کے موقع پر ایسا نہ کرنے کی بات آئی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں