سنن نسائی حدیث ۱۱۱۲ - رکوع اور سجدے میں پیٹھ سیدھی رکھنا
رکوع اور سجدے میں پیٹھ سیدھی رکھنے کی حدیث
سنن نسائی : ۱۱۱۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۱۱۲
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ الْمَرْوَزِيُّ ، قال : أَنْبَأَنَا عِيسَى وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُجْزِئُ صَلَاةٌ لَا يُقِيمُ الرَّجُلُ فِيهَا صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ " .
ابومسعود روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ نماز کفایت نہیں کرتی جس میں آدمی رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھے“۔
سنن نسائی حدیث ۱۱۱۲ کا خلاصہ
ابومسعود رضی اللہ عنہ کی روایت میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے نماز کے ایک اہم پہلو کی طرف توجہ دلائی۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ وہ نماز کفایت نہیں کرتی جس میں آدمی رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھے۔ اس حدیث کا اصل موضوع رکوع اور سجدے کا اتمام ہے۔ نماز صرف حرکات کا نام نہیں کہ آدمی جلدی جلدی جھک جائے اور اٹھ جائے۔ رکوع میں کمر کو قائم رکھنا اور سجدے میں جسم کو درست حالت میں رکھنا نماز کی سنجیدگی کا حصہ ہے۔ حدیث میں خاص طور پر پیٹھ سیدھی رکھنے کا ذکر آیا ہے، اس لیے اس سے جلد بازی یا بے ترتیب رکوع و سجدہ کی اصلاح ہوتی ہے۔ نمازی کو چاہیے کہ رکوع اور سجدے کو پورے دھیان سے ادا کرے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رکوع اور سجدے میں پیٹھ سیدھی رکھنا ضروری عمل کے طور پر بیان ہوا ہے۔
- نماز میں جلدی اور بے ترتیبی سے بچنا چاہیے۔
- رکوع اور سجدہ پورے اطمینان کے ساتھ ادا کرنا چاہیے۔
