سنن نسائی حدیث ۱۱۱۱ - سجدے میں اعتدال اور بازو نہ پھیلانا
سجدے میں اعتدال اور ہاتھ نہ پھیلانے کی تعلیم
سنن نسائی : ۱۱۱۱
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۱۱۱
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : أَنْبَأَنَا عَبْدَةُ ، قال : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ . ح وأَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قال : سَمِعْتُ أَنَسًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " واعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ وَلَا يَبْسُطْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ انْبِسَاطَ الْكَلْبِ " اللَّفْظُ لِإِسْحَاقَ .
انس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سجدے میں اپنی ہیئت درمیانی رکھو اور تم میں سے کوئی اپنے دونوں ہاتھوں کو کتے کی طرح نہ پھیلائے“ - یہ الفاظ اسحاق بن راہویہ کے ہیں۔
سنن نسائی حدیث ۱۱۱۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں سجدے کے دو اہم ادب بیان ہوئے ہیں۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ سجدے میں اپنی ہیئت درمیانی رکھو، اور تم میں سے کوئی اپنے دونوں ہاتھوں کو کتے کی طرح نہ پھیلائے۔ یہاں سجدے میں اعتدال کا لفظ بہت اہم ہے۔ سجدہ نہ بے دھیانی سے کیا جائے، نہ ایسی حالت بنائی جائے جو نماز کے وقار کے خلاف ہو۔ اسی کے ساتھ بازوؤں کو زمین پر پھیلا دینے سے بھی منع کیا گیا ہے۔ اس حدیث کا پیغام سیدھا ہے: سجدہ سنت کے مطابق، سنبھل کر، اور مناسب ہیئت کے ساتھ ادا کیا جائے۔ اس میں کوئی لمبی فقہی بحث نہیں، بلکہ ایک عملی اصلاح ہے جو ہر نمازی کے لیے سمجھنا آسان ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سجدے میں اعتدال اختیار کرنا نبی صلى الله عليه وسلم کی تعلیم ہے۔
- ہاتھوں کو کتے کی طرح زمین پر پھیلانا منع ہے۔
- نماز کی ہیئت میں سنجیدگی اور وقار ہونا چاہیے۔
