سنن نسائی حدیث ۱۱۱۰ - سجدے میں ہاتھ پہلو سے جدا رکھنا

سجدے میں ہاتھوں کی کشادگی کا خوبصورت بیان

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۱۱۰

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنْ عَمِّهِ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ الْأَصَمِّ ، عَنْ مَيْمُونَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ إِذَا سَجَدَ جَافَى يَدَيْهِ حَتَّى لَوْ أَنَّ بَهْمَةً أَرَادَتْ أَنْ تَمُرَّ تَحْتَ يَدَيْهِ مَرَّتْ " .

میمونہ روایت:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھ اپنے پہلو سے جدا رکھتے یہاں تک کہ اگر کوئی بکری کا بچہ آپ کے ہاتھوں کے نیچے سے گزرنا چاہتا تو گزر جاتا۔

سنن نسائی حدیث ۱۱۱۰ کا خلاصہ

ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کی روایت سجدے کی ہیئت کو بہت واضح مثال سے سمجھاتی ہے۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم جب سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھ اپنے پہلو سے جدا رکھتے، یہاں تک کہ اگر کوئی بکری کا بچہ آپ صلى الله عليه وسلم کے ہاتھوں کے نیچے سے گزرنا چاہتا تو گزر جاتا۔ اس حدیث میں سجدے میں ہاتھوں کی کشادگی کا انداز نہایت آسان الفاظ میں آیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ نمازی دکھاوے کے لیے جسم کو غیر معمولی پھیلائے، بلکہ حدیث بتاتی ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم کا سجدہ سمٹا ہوا نہیں ہوتا تھا۔ ہاتھ پہلوؤں سے جدا رہتے تھے۔ سجدے کا صحیح طریقہ سمجھنے کے لیے یہ روایت بہت مؤثر ہے، کیونکہ اس میں عمل کے ساتھ ایک محسوس مثال بھی دی گئی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم سجدے میں ہاتھوں کو پہلوؤں سے جدا رکھتے تھے۔
  • حدیث میں بکری کے بچے کی مثال سے کشادگی کا انداز واضح ہوا۔
  • سجدے میں جسم کو بے ترتیب نہیں بلکہ سنت کے مطابق رکھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں