سنن نسائی حدیث ۱۱۰۷ - سجدے میں ہاتھوں کے بیچ کشادگی
سجدے میں ہاتھوں کے بیچ کشادگی کی سنت
سنن نسائی : ۱۱۰۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۱۰۷
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا بَكْرٌ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ابْنِ بُحَيْنَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ إِذَا صَلَّى فَرَّجَ بَيْنَ يَدَيْهِ حَتَّى يَبْدُوَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ " .
عبداللہ بن مالک بن بحینہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کے بیچ کشادگی رکھتے، یہاں تک کہ آپ کے بغل کی سفیدی ظاہر ہو جاتی۔
سنن نسائی حدیث ۱۱۰۷ کا خلاصہ
عبداللہ بن مالک ابن بحینہ رضی اللہ عنہم کی روایت میں نبی صلى الله عليه وسلم کے سجدے کا ایک نمایاں انداز بیان ہوا ہے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نماز پڑھتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کے بیچ کشادگی رکھتے، یہاں تک کہ آپ کی بغل کی سفیدی ظاہر ہو جاتی۔ اس حدیث میں سجدے کی ہیئت بہت صاف ہے: ہاتھ اتنے قریب نہ ہوں کہ جسم سمٹ جائے، بلکہ مناسب کشادگی ہو۔ یہ بات پچھلی روایات کے مضمون سے بھی ملتی ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم سجدے میں بازو پہلوؤں سے الگ رکھتے تھے۔ اس حدیث کا مقصد نماز کے اندر سجدے کی شکل کو درست سمجھانا ہے۔ سجدہ اللہ کے سامنے جھکنے کا عمل ہے، لیکن اسے نبی صلى الله عليه وسلم کے دکھائے ہوئے انداز کے مطابق ادا کرنا بھی ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سجدے میں ہاتھوں کے بیچ کشادگی رکھنا نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل سے ثابت ہے۔
- سجدے کی ہیئت میں بازوؤں کو جسم سے الگ رکھنے کا پہلو واضح ہے۔
- نماز میں سجدہ جلد بازی سے نہیں، درست انداز سے ادا کرنا چاہیے۔
