سنن نسائی حدیث ۱۱۰۸ - سجدے میں بغلوں کا ظاہر ہونا
سجدے میں بغلوں کے ظاہر ہونے کا بیان
سنن نسائی : ۱۱۰۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۱۰۸
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ ، قال : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عِمْرَانَ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال : " لَوْ كُنْتُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَبْصَرْتُ إِبْطَيْهِ " قَالَ أَبُو مِجْلَزٍ : كَأَنَّهُ قَالَ : ذَلِكَ لِأَنَّهُ فِي صَلَاةٍ .
ابوہریرہ روایت:
اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوتا تو میں آپ کی دونوں بغل ضرور دیکھتا ہوتا۔ ابومجلز کہتے ہیں کہ گویا انہوں نے یہ بات اس وجہ سے کہی ہے کیونکہ وہ نماز میں موجود تھے۔
سنن نسائی حدیث ۱۱۰۸ کا خلاصہ
اس روایت میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ اگر وہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے سامنے ہوتے تو آپ صلى الله عليه وسلم کی دونوں بغل ضرور دیکھ لیتے۔ ابو مجلز کہتے ہیں کہ گویا انہوں نے یہ بات اس وجہ سے کہی کہ وہ نماز میں موجود تھے۔ اس حدیث کا اصل تعلق سجدے کی اس ہیئت سے ہے جس میں نبی صلى الله عليه وسلم اپنے ہاتھوں اور بازوؤں میں کشادگی رکھتے تھے۔ جب بازو پہلوؤں سے الگ ہوتے ہیں تو بغل کا حصہ ظاہر ہو سکتا ہے۔ روایت میں کوئی لمبا حکم بیان نہیں ہوا، بلکہ ایک مشاہدہ نقل کیا گیا ہے۔ یہ مشاہدہ سجدے کا طریقہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ نماز میں سجدہ کرتے وقت انسان کو جسم کی حالت کا خیال رکھنا چاہیے، خاص طور پر بازوؤں کو بے جان انداز میں زمین پر نہ پھیلایا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت سجدے میں ہاتھوں اور بازوؤں کی کشادگی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
- صحابہ کرام نبی صلى الله عليه وسلم کی نماز کے ظاہری انداز کو بھی محفوظ رکھتے تھے۔
- سجدے میں جسم کو سنبھال کر رکھنا نماز کی ہیئت کا حصہ ہے۔
