سنن نسائی حدیث ۱۱۰۹ - سجدے میں بغل کی سفیدی نظر آنا
سجدے میں کشادگی: بغل کی سفیدی نظر آنا
سنن نسائی : ۱۱۰۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۱۰۹
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قال : أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قال : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَقْرَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قال : صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَكُنْتُ أَرَى عُفْرَةَ إِبْطَيْهِ إِذَا سَجَدَ " .
عبداللہ بن اقرم روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، جب آپ سجدہ کرتے تو مجھے آپ کی دونوں بغل کی سفیدی نظر آتی۔
سنن نسائی حدیث ۱۱۰۹ کا خلاصہ
عبداللہ بن اقرم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ جب آپ صلى الله عليه وسلم سجدہ کرتے تو انہیں آپ کی دونوں بغل کی سفیدی نظر آتی۔ یہ روایت بھی سجدے کے طریقے کو واضح کرتی ہے۔ اس میں اصل بات یہ ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم سجدے میں اپنے بازو اس طرح رکھتے تھے کہ جسم میں کشادگی ہوتی تھی۔ بغل کی سفیدی نظر آنا اسی کشادگی کا نتیجہ تھا۔ حدیث میں کسی اضافی تفصیل کا ذکر نہیں، بلکہ نماز کے دوران ایک دیکھے ہوئے عمل کو بیان کیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سجدے میں بازوؤں کو پہلوؤں سے جدا رکھنا نبی صلى الله عليه وسلم کا طریقہ تھا۔ سجدے کا صحیح طریقہ سیکھنے والے کے لیے یہ روایت بہت آسان زبان میں عملی رہنمائی دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم کے سجدے میں بازوؤں کی کشادگی صحابی کے مشاہدے سے ثابت ہے۔
- نماز کے اعمال کو صحابہ نے دھیان سے دیکھا اور نقل کیا۔
- سجدہ کرتے وقت جسم کو سنت کے مطابق رکھنا چاہیے۔
