سنن نسائی حدیث ۱۱۰۴ - سجدے میں بازو بچھانے کی ممانعت
سجدے میں بازو زمین پر بچھانا منع ہے
سنن نسائی : ۱۱۰۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۱۰۴
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ هَارُونَ ، قال : حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلَاءِ وَاسْمُهُ أَيُّوبُ بْنُ أَبِي مِسْكِينٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَفْتَرِشْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ فِي السُّجُودِ افْتِرَاشَ الْكَلْبِ " .
انس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں کوئی شخص سجدے میں اپنے دونوں بازو (زمین پر) کتے کے بچھانے کی طرف نہ بچھائے“۔
سنن نسائی حدیث ۱۱۰۴ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی پیغام سجدے کا ادب ہے۔ انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص سجدے میں اپنے دونوں بازو کتے کے بچھانے کی طرح نہ بچھائے۔ اس میں نماز کے اندر سجدے کی ہیئت کی اصلاح کی گئی ہے۔ سجدہ عاجزی کی حالت ہے، مگر اس کے ساتھ طریقہ بھی درست ہونا چاہیے۔ حدیث میں خاص طور پر بازوؤں کو زمین پر پھیلا دینے سے منع کیا گیا ہے۔ اس لیے سجدے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنی نماز کو سنجیدگی سے ادا کرے اور ایسی شکل اختیار نہ کرے جس سے سجدے کی وقار والی حالت بدل جائے۔ یہ روایت ہمیں بتاتی ہے کہ نماز میں صرف الفاظ ہی نہیں، بلکہ جسم کی حالت بھی نبی صلى الله عليه وسلم کی تعلیم کے مطابق ہونی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سجدے میں دونوں بازو زمین پر پھیلانا منع ہے۔
- نماز میں جسم کی ہیئت بھی سنت کے مطابق ہونی چاہیے۔
- سجدہ عاجزی کے ساتھ ساتھ ادب اور ترتیب سے کیا جائے۔
