سنن نسائی حدیث ۱۱۰۲ - سجدے میں بازو الگ رکھنے کا طریقہ
سجدے کا درست طریقہ اور بازو الگ رکھنا
سنن نسائی : ۱۱۰۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۱۰۲
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قال : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، قال : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قال : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَهْوَى إِلَى الْأَرْضِ سَاجِدًا جَافَى عَضُدَيْهِ عَنْ إِبِطَيْهِ وَفَتَخَ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ مُخْتَصَرٌ " .
ابو حمید ساعدی روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرنے کے لیے زمین کی طرف جھکتے تو اپنے بازوؤں کو اپنی بغل سے الگ رکھتے، اور اپنے پیر کی انگلیوں کو کھلا رکھتے - یہ ایک لمبی حدیث کا اختصار ہے۔
سنن نسائی حدیث ۱۱۰۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں سجدے کا طریقہ بہت صاف انداز میں بیان ہوا ہے۔ ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم جب سجدے کے لیے زمین کی طرف جھکتے تو اپنے بازوؤں کو بغلوں سے الگ رکھتے تھے۔ اسی طرح آپ صلى الله عليه وسلم اپنے پاؤں کی انگلیوں کو کھلا رکھتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں سجدہ ایک خاص ادب اور ترتیب کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ سجدے میں جسم کو ایسے نہیں گرانا چاہیے کہ بازو پہلوؤں سے چپک جائیں یا پاؤں بے ترتیب رہیں۔ حدیث میں صرف وہی بات بیان ہوئی ہے جو صحابی نے دیکھی، یعنی سجدے کی سنت ہیئت، بازو الگ رکھنا، اور پاؤں کی انگلیوں کو کھلا رکھنا۔ یہ بات نمازی کو سکھاتی ہے کہ نماز کے ظاہری انداز میں بھی نبی صلى الله عليه وسلم کی پیروی اہم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سجدے میں بازو بغلوں سے الگ رکھنا نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل سے ثابت ہے۔
- پاؤں کی انگلیوں کو کھلا رکھنا سجدے کی ہیئت کا حصہ ہے۔
- نماز کے چھوٹے اعمال بھی توجہ اور اتباع کے ساتھ ادا کرنے چاہئیں۔
