سنن نسائی حدیث ۱۱۰۳ - نماز میں رفع یدین اور تکبیر
نماز میں رفع یدین اور تکبیر کا نبوی طریقہ
سنن نسائی : ۱۱۰۳
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۱۰۳
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ نَاصِحٍ ، قال : حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، قال : سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ كُلَيْبٍ يَذْكُرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، قال : " قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَقُلْتُ لَأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ إِبْهَامَيْهِ قَرِيبًا مِنْ أُذُنَيْهِ فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ فَكَانَتْ يَدَاهُ مِنْ أُذُنَيْهِ عَلَى الْمَوْضِعِ الَّذِي اسْتَقْبَلَ بِهِمَا الصَّلَاةَ " .
وائل بن حجر روایت:
میں مدینہ آیا تو میں نے (اپنے جی میں) کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ضرور دیکھوں گا (کہ آپ کیسے نماز پڑھتے ہیں تو میں نے دیکھا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر کہا، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ میں نے آپ کے دونوں انگوٹھوں کو آپ کی دونوں کانوں کے قریب دیکھا، اور جب آپ نے رکوع کرنے کا ارادہ کیا تو ”اللہ اکبر“ کہا، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، پھر آپ نے رکوع سے اپنا سر اٹھایا، اور «سمع اللہ لمن حمده» کہا، پھر آپ نے ”اللہ اکبر“ کہا، اور سجدہ کیا، آپ کے دونوں ہاتھ آپ کی دونوں کانوں کی اس جگہ تک اٹھے جہاں تک آپ نے شروع نماز میں انہیں اٹھایا تھا (یعنی انہیں دونوں کانوں کے بالمقابل اٹھایا)۔
سنن نسائی حدیث ۱۱۰۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کا شوق بھی نظر آتا ہے اور نبی صلى الله عليه وسلم کی نماز کا طریقہ بھی۔ وہ مدینہ آئے تو انہوں نے دل میں ارادہ کیا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی نماز کو غور سے دیکھیں گے۔ انہوں نے دیکھا کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے اللہ اکبر کہا اور ہاتھ اٹھائے، یہاں تک کہ انگوٹھے کانوں کے قریب نظر آئے۔ پھر جب رکوع کا ارادہ کیا تو تکبیر کہی اور ہاتھ اٹھائے۔ رکوع سے سر اٹھاتے وقت آپ صلى الله عليه وسلم نے سمع اللہ لمن حمدہ کہا۔ پھر تکبیر کہہ کر سجدہ کیا۔ حدیث میں نماز میں رفع یدین، تکبیر انتقال، رکوع سے اٹھنے کی دعا، اور سجدے کی طرف جانے کا ذکر ہے۔ یہ روایت بتاتی ہے کہ صحابہ کرام نماز کا طریقہ دیکھ کر یاد کرتے تھے تاکہ وہ نبی صلى الله عليه وسلم جیسی نماز ادا کر سکیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ کرام نبی صلى الله عليه وسلم کی نماز کو غور سے دیکھتے اور یاد رکھتے تھے۔
- نماز میں تکبیرات اور حرکات ترتیب کے ساتھ ادا کی جاتی ہیں۔
- رکوع سے اٹھتے وقت سمع اللہ لمن حمدہ کہنا اس حدیث میں آیا ہے۔
- رفع یدین کا ذکر شروع نماز اور رکوع کے ارادے کے وقت آیا ہے۔
