سنن نسائی حدیث ۱۱۰۵ - سجدے میں ہاتھ رکھنے کا نبوی انداز

سجدے میں ہاتھ زمین پر رکھنے کا طریقہ

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۱۰۵

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ الْمَرْوَزِيُّ ، قال : أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قال : وَصَفَ لَنَا الْبَرَاءُ السُّجُودَ " فَوَضَعَ يَدَيْهِ بِالْأَرْضِ وَرَفَعَ عَجِيزَتَهُ وَقَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ " .

ابواسحاق سبیعی روایت:

براء رضی اللہ عنہ نے ہمیں سجدہ کر کے دکھایا تو انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر رکھے، اور اپنی سرین اٹھائے رکھی، اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے۔

سنن نسائی حدیث ۱۱۰۵ کا خلاصہ

اس روایت میں براء رضی اللہ عنہ نے صرف بات نہیں بتائی بلکہ سجدہ کر کے دکھایا۔ انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر رکھے اور اپنی سرین اٹھائے رکھی، پھر کہا کہ میں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام نماز کے عمل کو دیکھ کر بھی سکھاتے تھے۔ سجدے کا طریقہ صرف ذہنی بات نہیں، بلکہ ایک عملی ہیئت ہے جس میں ہاتھ زمین پر رکھے جاتے ہیں اور جسم کو درست انداز میں رکھا جاتا ہے۔ حدیث میں اتنی ہی بات بیان ہوئی ہے کہ ہاتھ زمین پر ہوں اور سرین اٹھائی ہوئی ہو۔ اس لیے اس سے سجدے کی سنت شکل سمجھ آتی ہے۔ نمازی کے لیے یہ حدیث یاد دہانی ہے کہ سجدہ جلدی یا بے ترتیبی سے نہیں، بلکہ دیکھے ہوئے نبوی طریقے کے مطابق ادا کیا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • صحابہ کرام نماز کا طریقہ عملی طور پر بھی سمجھاتے تھے۔
  • سجدے میں دونوں ہاتھ زمین پر رکھنا اس روایت میں آیا ہے۔
  • سجدے کی حالت میں جسم کو درست اور سنبھالا ہوا رکھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں