سنن نسائی حدیث ۱۱۸ - جریر رضی اللہ عنہ کا مسح خفین

جریر رضی اللہ عنہ کی حدیث: موزوں پر مسح

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۱۸

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ " تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ " ، فَقِيلَ لَهُ : أَتَمْسَحُ ؟ فَقَالَ : قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ ، وَكَانَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللَّهِ يُعْجِبُهُمْ قَوْلُ جَرِيرٍ ، وَكَانَ إِسْلَامُ جَرِيرٍ قَبْلَ مَوْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَسِيرٍ .

جریر بن عبداللہ روایت:

´جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` انہوں نے وضو کیا، اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا، تو ان سے کہا گیا: کیا آپ مسح کرتے ہیں؟ اس پر انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسح کرتے دیکھا ہے۔

سنن نسائی حدیث ۱۱۸ کا خلاصہ

جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے وضو کیا اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ مسح کرتے ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو مسح کرتے دیکھا ہے۔ روایت میں یہ بھی آیا کہ عبداللہ کے اصحاب کو جریر رضی اللہ عنہ کی بات پسند آتی تھی، اور جریر رضی اللہ عنہ کا اسلام نبی صلى الله عليه وسلم کی وفات سے کچھ پہلے ہوا تھا۔ اس حدیث کا اصل موضوع مسح خفین ہے، یعنی وضو میں چمڑے کے موزوں پر مسح۔ اس میں صحابی کا عمل، سوال کا جواب اور نبی صلى الله عليه وسلم کے مشاہدے کو دلیل بنانا صاف نظر آتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • جریر رضی اللہ عنہ نے وضو کے بعد دونوں موزوں پر مسح کیا۔
  • انہوں نے اپنے عمل کی بنیاد نبی صلى الله عليه وسلم کو دیکھنے پر رکھی۔
  • روایت میں جریر رضی اللہ عنہ کے اسلام کے وقت کا ذکر بھی آیا ہے۔
  • صحابہ کے سوال و جواب سے عملی مسائل محفوظ ہوئے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں