سنن نسائی حدیث ۱۰۵ - دونوں موزوں پر مسح
وضو میں دونوں موزوں پر مسح
سنن نسائی : ۱۰۵
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۰۵
وأَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَرْجَرَائِيُّ ، عَنْ طَلْقِ بْنِ غَنَّامٍ ، قال : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، عَنْ بِلَالٍ ، قال : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ " .
بلال روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دونوں موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا۔
سنن نسائی حدیث ۱۰۵ کا خلاصہ
یہ روایت بہت مختصر مگر واضح ہے۔ بلال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو دونوں موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا۔ اس حدیث کا اصل موضوع مسح خفین یعنی چمڑے کے موزوں پر مسح ہے۔ یہاں پگڑی یا پیشانی کا ذکر نہیں، صرف دونوں موزوں پر مسح کا بیان ہے۔ اس لیے اس روایت سے اتنا ہی سمجھنا درست ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ نے نبی صلى الله عليه وسلم کا یہ عمل اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اسے بیان کیا۔ وضو میں موزوں پر مسح، مسح خفین کی حدیث، اور نبی صلى الله عليه وسلم کا وضو اس روایت کے اہم الفاظ ہیں۔ عام فہم انداز میں یہ حدیث ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ وضو کے عملی احکام صحابہ کے مشاہدے سے امت تک پہنچے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اس روایت میں دونوں موزوں پر مسح کا ذکر ہے۔
- بلال رضی اللہ عنہ نے یہ عمل نبی صلى الله عليه وسلم سے دیکھا۔
- حدیث کا بیان مختصر ہے، اس لیے اس میں زائد تفصیل شامل نہیں کرنی چاہیے۔
- وضو کے عملی طریقے صحابہ کے مشاہدات سے محفوظ ہوئے۔
