سنن نسائی حدیث ۱۱۸۸ - مسجد قباء میں اشارے سے جواب
مسجد قباء میں سلام کا اشارے سے جواب
سنن نسائی : ۱۱۸۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۱۸۸
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْمَكِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زَيْدِ ابْنِ أَسْلَمَ , قَالَ : قَالَ ابْنُ عُمَرَ : " دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسْجِدَ قُبَاءَ لِيُصَلِّيَ فِيهِ , فَدَخَلَ عَلَيْهِ رِجَالٌ يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ , فَسَأَلْتُ صُهَيْبًا وَكَانَ مَعَهُ : كَيْفَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ إِذَا سُلِّمَ عَلَيْهِ ؟ قَالَ : " كَانَ يُشِيرُ بِيَدِهِ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قباء میں نماز پڑھنے کے لیے داخل ہوئے، تو لوگ ان کے پاس سلام کرنے کے لیے آئے، میں نے صہیب صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا (وہ آپ کے ساتھ تھے) کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب سلام کیا جاتا تھا تو آپ کیسے جواب دیتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: آپ اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے تھے۔
سنن نسائی حدیث ۱۱۸۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قباء میں نماز پڑھنے داخل ہوئے۔ لوگ آپ کے پاس سلام کرنے آئے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے صہیب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں سلام کیا جاتا تو آپ کیسے جواب دیتے تھے؟ صہیب رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ آپ اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے تھے۔ اس حدیث میں مسجد قباء، نماز میں سلام کا جواب، اور ہاتھ کے اشارے کا عمل بیان ہوا ہے۔ روایت کا مقصد یہ بتانا ہے کہ نماز کی حالت میں جواب دینے کا طریقہ عام گفتگو جیسا نہیں تھا، بلکہ اشارے سے جواب دیا گیا۔ اس میں کوئی لمبی بحث نہیں، صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل نقل کیا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز میں سلام کا جواب ہاتھ کے اشارے سے دیا جا سکتا ہے۔
- مسجد قباء کے واقعہ میں یہی نبوی عمل بیان ہوا ہے۔
- نماز کے اندر عام گفتگو سے بچنے کا اشارہ ملتا ہے۔
- صحابہ رضی اللہ عنہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو پوچھ کر سیکھتے تھے۔
