سنن نسائی حدیث ۱۱۸۹ - نماز میں سلام کا جواب
نماز میں سلام کا جواب دینے کی حدیث
سنن نسائی : ۱۱۸۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۱۸۹
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبٌ يَعْنِي ابْنَ جَرِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ : " أَنَّهُ سَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَرَدَّ عَلَيْهِ " .
عمار بن یاسر روایت:
´عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، اور آپ نماز پڑھ رہے تھے، تو آپ نے انہیں (اشارے سے) جواب دیا۔
سنن نسائی حدیث ۱۱۸۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، جبکہ آپ نماز پڑھ رہے تھے۔ روایت کے الفاظ کے مطابق آپ نے انہیں جواب دیا، اور اس باب کی دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جواب اشارے کے ذریعے تھا۔ یہاں اصل بات نماز میں سلام کا جواب ہے۔ حدیث مختصر ہے، مگر اس میں ایک عملی مسئلہ صاف آتا ہے کہ اگر کسی نے نماز پڑھنے والے کو سلام کیا تو جواب کا معاملہ نماز کے ادب کے ساتھ کیا گیا۔ اس روایت کو نماز میں اشارہ، سلام کا جواب، اور صحابہ کے سوالات و واقعات کے ساتھ سمجھا جا سکتا ہے۔ متن سے آگے بڑھ کر کوئی الگ حکم نہیں لگایا گیا، بلکہ اسی واقعہ تک بات رکھی گئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں سلام کیا۔
- نماز کی حالت میں جواب دینے کا واقعہ روایت میں آیا ہے۔
- نماز کے دوران جواب دینے میں نماز کا ادب باقی رکھا گیا۔
- مختصر حدیث سے بھی عملی رہنمائی ملتی ہے۔
