سنن نسائی حدیث ۱۱۹۰ - نماز میں سلام کا اشارہ

نماز میں سلام پر اشارہ کرنے کی حدیث

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۱۹۰

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ ثُمَّ " أَدْرَكْتُهُ وَهُوَ يُصَلِّي , فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَأَشَارَ إِلَيَّ , فَلَمَّا فَرَغَ دَعَانِي , فَقَالَ : إِنَّكَ سَلَّمْتَ عَلَيَّ آنِفًا وَأَنَا أُصَلِّي , وَإِنَّمَا هُوَ مُوَجَّهٌ يَوْمَئِذٍ إِلَى الْمَشْرِقِ " .

جابر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی ضرورت کے لیے بھیجا، جب میں (واپس آیا تو) میں نے آپ کو نماز پڑھتے ہوئے پایا، تو میں نے (اسی حالت میں) آپ کو سلام کیا، تو آپ نے مجھے اشارے سے جواب دیا، جب آپ نماز پڑھ چکے تو مجھے بلایا، اور فرمایا: ”تم نے ابھی مجھے سلام کیا تھا، اور میں نماز پڑھ رہا تھا“، اور اس وقت آپ پورب کی طرف رخ کیے ہوئے تھے۔

سنن نسائی حدیث ۱۱۹۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کسی کام کے لیے بھیجا۔ جب وہ واپس آئے تو آپ نماز پڑھ رہے تھے۔ جابر رضی اللہ عنہ نے سلام کیا، تو آپ نے اشارے سے جواب دیا۔ نماز مکمل ہونے کے بعد آپ نے انہیں بلایا اور فرمایا کہ تم نے ابھی مجھے سلام کیا تھا، جبکہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ اس وقت آپ کا رخ مشرق کی طرف تھا۔ اس حدیث میں نماز میں سلام، اشارے سے جواب، اور بعد میں وضاحت کرنے کا عمل بیان ہوا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کی حالت میں زبان سے جواب نہیں دیا بلکہ اشارہ کیا، پھر نماز کے بعد بات سمجھا دی۔ روایت سادہ ہے اور اسی واقعہ تک محدود رہتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز میں سلام کا جواب اشارے سے دیا گیا۔
  • نماز کے بعد جابر رضی اللہ عنہ کو بات سمجھائی گئی۔
  • نماز کی حالت میں عام گفتگو سے بچنے کا طریقہ سامنے آتا ہے۔
  • اشارے کے بعد بھی ضرورت ہو تو نماز کے بعد وضاحت کی جا سکتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں