سنن نسائی حدیث ۱۱۹۳ - ضرورت ہو تو ایک بار

نماز میں ضرورت ہو تو ایک بار ہاتھ پھیرنا

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۱۹۳

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , قَالَ : حَدَّثَنِي مُعَيْقِيبٌ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِنْ كُنْتَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَمَرَّةً " .

معیقیب روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”اگر تمہیں (کنکریوں پر) ہاتھ پھیرنا ضروری ہی ہو تو ایک بار پھیر سکتے ہو“۔

سنن نسائی حدیث ۱۱۹۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں معیقب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں ایسا کرنا ضروری ہی ہو تو ایک بار کر سکتے ہو۔ یہاں بات کنکریوں پر ہاتھ پھیرنے کے بارے میں ہے، جیسا کہ اس باب کی پچھلی روایت سے معلوم ہوتا ہے۔ اس سے نماز میں سکون اور ضرورت کے درمیان فرق سمجھ آتا ہے۔ عام حالت میں نماز میں بار بار ہاتھ چلانا درست طریقہ نہیں، لیکن اگر واقعی ضرورت ہو تو ایک بار کی گنجائش بیان ہوئی ہے۔ اس حدیث میں نماز میں کنکری ہٹانا، ایک بار ہاتھ پھیرنا، اور نماز میں غیر ضروری حرکت سے بچنا جیسے موضوعات آتے ہیں۔ یہ روایت بہت مختصر ہے، مگر نمازی کو اعتدال سکھاتی ہے کہ ضرورت کو ضرورت تک رکھا جائے، عادت نہ بنایا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اگر ضرورت ہو تو ایک بار ہاتھ پھیرنے کی اجازت بیان ہوئی ہے۔
  • بار بار حرکت کرنے سے بچنے کی طرف اشارہ ملتا ہے۔
  • نماز میں سکون کو اصل رکھا گیا ہے۔
  • ضرورت اور غیر ضروری عادت میں فرق رکھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں