سنن نسائی حدیث ۱۲۴۰ - تین یا چار رکعت کا شک
تین یا چار رکعت کا شک ہو تو کیا کرے
سنن نسائی : ۱۲۴۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۲۴۰
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا لَمْ يَدْرِ أَحَدُكُمْ صَلَّى ثَلَاثًا أَمْ أَرْبَعًا فَلْيُصَلِّ رَكْعَةً ، ثُمَّ يَسْجُدْ بَعْدَ ذَلِكَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ , فَإِنْ كَانَ صَلَّى خَمْسًا شَفَعَتَا لَهُ صَلَاتَهُ , وَإِنْ صَلَّى أَرْبَعًا كَانَتَا تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ " .
ابو سعید خدری روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی (نماز پڑھتے وقت) نہ جان پائے کہ اس نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار، تو اسے ایک رکعت اور پڑھ لینی چاہیئے، پھر وہ ان سب کے بعد بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے، (اب) اگر اس نے پانچ رکعتیں پڑھی ہوں گی، تو یہ دونوں سجدے اس کی نماز کو جفت بنا دیں گے، اور اگر اس نے چار رکعتیں پڑھی ہوں گی تو یہ دونوں سجدے شیطان کی ذلت و خواری کا اور اسے غیظ و غضب میں مبتلا کرنے کا سبب بنیں گے“۔
سنن نسائی حدیث ۱۲۴۰ کا خلاصہ
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی یہ نہ جان پائے کہ اس نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار، تو اسے ایک رکعت اور پڑھ لینی چاہیے۔ پھر ان سب کے بعد بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے۔ اگر اس نے پانچ رکعتیں پڑھی ہوں گی تو یہ دونوں سجدے اس کی نماز کو جفت بنا دیں گے، اور اگر چار رکعتیں پڑھی ہوں گی تو یہ شیطان کی ذلت اور غصے کا سبب ہوں گے۔ یہ حدیث خاص طور پر اس شخص کے لیے رہنمائی ہے جسے رکعتوں کی تعداد میں شک ہو۔ اس میں شک کے وقت ایک عملی طریقہ بتایا گیا ہے: ایک رکعت مزید، پھر سجدہ سہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تین یا چار رکعت کے شک میں ایک رکعت مزید پڑھنے کا حکم آیا ہے۔
- آخر میں بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے جائیں۔
- حدیث میں پانچ رکعت کی صورت کا بھی ذکر ہے۔
- شک کے وقت واضح طریقے پر عمل کیا جائے۔
