سنن نسائی حدیث ۱۲۴۱ - شک میں درست بات کا قصد
نماز میں شک ہو تو درست بات پر عمل کریں
سنن نسائی : ۱۲۴۱
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۲۴۱
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ وَهُوَ ابْنُ مُهَلْهَلٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ , فَلْيَتَحَرَّ الَّذِي يَرَى أَنَّهُ الصَّوَابُ فَيُتِمَّهُ ، ثُمَّ يَعْنِي يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ وَلَمْ أَفْهَمْ بَعْضَ حُرُوفِهِ كَمَا أَرَدْتُ " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو اس کی نماز میں شک ہو جائے تو اسے چاہیئے کہ وہ (غور و فکر کے بعد) اس چیز کا قصد کرے جسے اس نے درست سمجھا ہو، اور اسی پر اتمام کرے، پھر اس کے بعد یعنی دو سجدے کرے“، راوی کہتے ہیں: آپ کے بعض حروف کو میں اس طرح سمجھ نہیں سکا جیسے میں چاہ رہا تھا۔
سنن نسائی حدیث ۱۲۴۱ کا خلاصہ
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو نماز میں شک ہو جائے تو وہ غور کرے اور جس چیز کو درست سمجھتا ہو اس کا قصد کرے، پھر اسی پر نماز مکمل کرے، پھر دو سجدے کرے۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ کے بعض الفاظ کو میں پوری طرح نہیں سمجھ سکا جیسے میں چاہتا تھا۔ اس حدیث میں نماز میں شک کے وقت ایک دوسرا انداز بتایا گیا ہے: آدمی اندازہ لگائے کہ درست کیا ہے، پھر اسی کے مطابق نماز مکمل کرے۔ اس کا مقصد الجھن میں پڑے رہنا نہیں بلکہ نماز کو سنبھال کر مکمل کرنا ہے۔ آخر میں دو سجدوں کا ذکر سجدہ سہو کے عمل کو واضح کرتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز میں شک ہو تو غور کر کے درست بات اختیار کی جائے۔
- جس بات کو درست سمجھے، اسی پر نماز مکمل کی جائے۔
- نماز مکمل کرنے کے بعد دو سجدے کیے جائیں۔
- راوی نے اپنے سمجھنے کی حد بھی دیانت سے بیان کی۔
